خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 433 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 433

خطبات محمود 433 سال 1947ء وقت نظر آتا ہے اور جو ہماری تباہی اور بربادی کے خواب دیکھ رہے ہیں اُن کی آنکھیں کھل جائیں گی اور وہ حیران ہوں گے کہ یہ کیسے نیک وقت کی تحریر تھی جس سے ایسی شاندار کتاب چھپی۔زمیندار جب زمین میں اپنا بیج پھینک دیتا ہے تو ایک ناواقف اور زراعت کے اصول سے نابلد شخص اُسے دیکھ کر کہتا ہے یہ کیسا احمق اور بیوقوف کسان ہے جس نے اپنا غلہ گھر سے اٹھایا اور زمین میں پھینک دیا۔مگر جب وہی غلہ ایک ایک دانہ کی بجائے کئی کئی سودانوں کی صورت میں اُسے واپس ملتا ہے تب اُسے احمق اور بیوقوف قرار دینے والا اپنی غلطی کو محسوس کرتا ہے اور اُسے معلوم ہوتا ہے کہ صحیح طریق وہی تھا جو کسان نے اختیار کیا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیا نے ہمیں اٹھا کر زمین میں پھینک دیا ہے مگر ہمیں یہ بھی تو ہے دیکھنا چاہیئے کہ ہم کیا ہیں ! ہم ایک کامل ہستی کا پیدا کیا ہوا بیج ہیں۔ہم خدا تعالیٰ کے فارم کا بیج ہیں جو دنیا چھ کی کھیتی میں ڈالا گیا۔اگر لائل پور کا پیج اعلیٰ درجہ کا غلہ پیدا کرتا ہے، اگر سکرنڈ کے فارم کا بیج اعلیٰ درجہ کا ہے غلہ پیدا کرتا ہے تو تم سمجھ سکتے ہو کہ خدا تعالیٰ کے فارم کا بیج جب زمین میں پھینکا جائے گا تو وہ کیسی شاندار اور اعلیٰ درجہ کی کھیتی پیدا کرنے کا موجب ہوگا۔بے شک دنیا کی نگاہوں میں ہم مٹی میں ملائے گئے ہیں۔مگر آسمانی فرشتوں کی نگاہ میں ہم ایک کھیت میں ڈالے گئے ہیں۔اور ہم اس کھیت سے ایک دن ایسی شان اور عظمت سے نکلیں گے کہ دنیا کی نظریں ہمیں دیکھ کر حیران ہوں گی۔اُس کی آنکھیں خیرہ ہو جائیں گی اور دشمنوں کے دل مایوسی سے بھر جائیں گے۔جیسے قرآن کریم میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ خدا تعالی کی ہوئی ہوئی فصل ایسی شان کے ساتھ نکلتی ہے کہ منکر اور بے دین لوگ تو الگ رہے خود بونے والے جنہوں نے یقین سے بویا تھا اُسے دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں اور ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ ایسی اعلیٰ درجہ کی فصل کہاں سے نکل آئی۔“ ( الفضل 2 دسمبر 1947ء) 1: الفتح : 30