خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 422 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 422

خطبات محمود 422 سال 1947ء ساٹھ ستر یا سو دانے اگر اسے کھانے کو ملیں گے تو پھر بھی وہ کمزور حالت میں زندہ رہ سکے گا۔مگر طاقت اسے پھر بھی حاصل نہیں ہوگی۔طاقت کے لئے مقررہ غذا کا اس کے معدہ میں جانا ضروری ہوتا ہے۔میرا جواب بھی اس قسم کا تھا اور وہ بتا رہا ہوں کہ چونکہ مجھے وسائل میسر نہیں اس لئے میں جماعت کو سو فیصدی اس بارہ میں تیار نہیں کر سکا۔مگر بہر حال اس سے یہ حقیقت بدل نہیں سکتی کہ ہمارا فرض یہی ہے کہ ہم سو فیصدی قرآن کریم کو جاننے اور سمجھنے والے ہوں۔پس جماعت کو چاہیئے کہ وہ اپنے اندر اصلاح کا رنگ پیدا کرے۔ابھی تک جماعت کے بعض لوگ اس کو محض ایک سوسائٹی کی طرح سمجھتے ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ بیعت کرنے کے بعد اگر چندہ دے دیا تو اتنا ہی ان کے لئے کافی ہے اور اس سے ان کی ساری ذمہ داریاں ادا ہو جائیں گی۔حالانکہ جب تک ہم دین کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش نہ کریں گے، جب تک ہم تھی اپنے ساتھیوں اور اپنے دوستوں اور اپنے رشتہ داروں کو قرآن کریم کے پڑھانے اور اس پر عمل کرانے کی کوشش نہ کریں گے اُس وقت تک ہما را قدم اُس اعلیٰ مقام تک نہیں پہنچ سکتا جس مقام تک پہنچنے کے نتیجہ میں انبیاء کی جماعتیں کامیاب ہوا کرتی ہیں۔“ خطبہ ثانیہ میں حضور نے فرمایا: جمعہ کے ساتھ ہی میں عصر کی نماز بھی جمع کراؤں گا اور اس کے بعد چند جنازے پڑھاؤں گا۔مرزا محمد اشرف صاحب پنشنز جو قادیان کے رہنے والے تھے جہلم میں وفات پاگئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اَلسَّابِقُونَ الْاَوَّلُونَ صحابہ میں سے ایک مرزا جلال الدین صاحب بلانی ضلع گجرات کے ہوتے تھے یہ ان کے لڑکے تھے اور بڑی دیر تک قادیان میں محاسب رہے۔نہایت مخلص اور نیک انسان تھے اور حضرت مسیح موعود الصلوۃ والسلام کے صحابی تھے۔ان کے والد کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم کی کلید لکھنے پر مامور فرمایا تھا اور انہوں نے ایک مکمل کلید لکھی بھی جو افسوس ہے کہ اب تک شائع نہیں ہو سکی۔اسی طرح میر رفیق علی صاحب ایم اے بنگال میں فوت ہو گئے ہیں۔نہایت ہوتی مخلص انسان تھے اور موصی تھے۔عالم بی بی صاحبہ کھتی ہیں کہ ان کے خاوند مرید کے اسٹیشن پر گاڑی سے گر کر فوت ہو گئے تھے۔صرف تین آدمیوں نے جنازہ پڑھا۔قادیان میں جو دوست شہر