خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 403 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 403

خطبات محمود 403 سال 1947ء آپ کو موسیٰ" کے مقابلہ میں فتح بخشے۔بلغم کے ساتھ خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا اور وہ لوگوں سے بھی کہا کرتا تھا کہ مجھ سے خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ تمہاری دعائیں نی قبول کی جائیں گی۔بادشاہ نے بلعم سے درخواست کی اور انہوں نے حضرت موسی کے مقابلہ میں اُس بادشاہ کی کامیابی کے لئے دعا کی۔دعا کر ہی رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں الہام جی ہوا کہ اس بادشاہ کے مقابلہ میں ہمارا نبی ہے۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہم تمہاری دعا قبول کر کے اُسے تباہ کر دیں۔بلعم خاموش ہو گیا اور اس نے بادشاہ سے کہہ دیا کہ میں اب دعا نہیں کر سکتا ہے مجھے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جھاڑ پڑتی ہے۔اُس نے پھر اصرار کیا مگر وہ نہ مانا۔آخر کسی نے اُس بادشاہ کو ترکیب بتلائی کہ بلعم پر اُس کی بیوی کا بہت اثر ہے اُسے کچھ روپیہ بھجوا دیا جائے تو ی اس کے کہنے پر ممکن ہے بلعم پھر دعا کے لئے تیار ہو جائے۔جس طرح آجکل کے لوگ مجسٹریٹوں کی بیویوں کو تحائف بھجوا دیتے ہیں اور وہ زور دے کر اپنے خاوندوں کو اُن کے حق میں فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔اسی طرح بادشاہ کو یہ ترکیب بتلائی گئی۔چونکہ بالعموم خدا تعالیٰ کے بندے دنیا کمانے میں کم حصہ لیتے ہیں اور اُن کی مالی حالت کمزور ہوتی ہے۔اسی قسم کی حالت می بلعم کی بھی تھی۔جب بادشاہ نے اُس کی بیوی کو بہت کچھ روپیہ بھجوا دیا تو اس نے اپنے خاوند سے کہا کہ ہم کتنی مصیبت برداشت کر رہے تھے اور کس طرح ہم پر فاقے آتے تھے اب بادشاہ نے ہمارے ساتھ اتنا حسن سلوک کیا ہے۔تم ایک دفعہ میری خاطر موسی کے مقابلہ میں دعا کرو۔خدا کا تمہارے ساتھ وعدہ ہے کہ وہ تمہاری دعا کو قبول کرے گا۔تمہاری دعا سے اگر موسیٰ مر گیا تو بہتر ور نہ اس گناہ کے متعلق بعد میں تو بہ کر لینا۔وہ بیوی کے کہنے پر ایک پہاڑ کی چٹان پر گئے جہاں سے موسیٰ اور اُن کی فوج نظر آتی تھی اور دعا میں مشغول ہو گئے۔جب دعا کے لئے انہوں نے ہاتھ اٹھائے تو یکدم اُن پر کشفی حالت طاری ہوئی اور انہیں معلوم ہوا کہ اُن کے سینہ میں سے ایک کبوتر نکلا اور ہوا میں پرواز کر گیا ہے۔اُس کے بعد انہیں الہام ہوا۔اے بلعم ! تیرے ساتھ ہمارا وعدہ دعاؤں کی قبولیت کا تیرے ایمان کی وجہ سے تھا۔جب تو ہمارے ایک برگزیدہ نبی کے مقابلہ میں کھڑا ہو گیا تو ہماری نگاہ میں تیرا ایمان بالکل ذلیل ہو گیا۔چنانچہ یہ کبوتر جو تیرے سینہ میں سے نکل کر ہوا میں اُڑ گیا ہے یہ تیرا ایمان تھا جو ہمارے پاس آ گیا ہے اور بلعم بے ایمان کی جی