خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 400 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 400

خطبات محمود 400 سال 1947ء بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بیرونی دنیا سے فیض حاصل کرتے ہیں اور بعض ایسے ہوتے ہیں ج جو بیرونی دنیا سے فیض حاصل نہیں کرتے بلکہ بیرونی دنیا ان کے مطابق تبدیل کی جاتی ہے۔انبیاء کی جماعتیں ایسی ہی ہوتی ہیں کہ دنیا ان کے مطابق بدلی جاتی ہے۔وہ دنیا کے مطابق نہیں بدلتے۔اور اگر دنیا کو بدلنے والی بات ان کے اندر نہ ہو تو وہ ایک بیکار وجود ہوتے ہیں اور وہ اتنا بھی فائدہ بخش نہیں ہوتے جتنے وہ لوگ جو دنیا کے مطابق بدلتے ہیں۔وہ بہر حال دنیا کے اثر کو قبول کرتے چلے جاتے ہیں۔خواہ وہ اثر اچھا ہو یا بُرا۔جیسے ایک کڑوی چیز ہے۔اسے جو بھی کھائے گا اُس کی کڑواہٹ سے متاثر ہوگا۔لیکن جو چیز دوسرے پر اثر ڈالنے کے لئے پیدا کی گئی ہو جب تک خود اس میں قوت متاثرہ نہ ہوگی وہ دوسرے پر اثر نہیں ڈال سکے گی۔مثلاً انسان کے جسم میں بعض تأشیریں ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس کے جسم میں گرمی ہوتی ہے۔اگر اسے ٹھنڈے کی جسم پر رگڑا جائے تو اُس میں بھی گرمی پیدا ہو جاتی ہے۔لیکن یہ امر ظاہر ہے کہ اگر کسی کے اپنے تھ میں گرمی نہیں ہو گی تو خواہ اُسے کتنا بھی کسی دوسری چیز کے پاس رکھا جائے دوسری چیز میں گرمی پیدا نہیں ہوگی۔پس جو فائدہ کسی چیز کے اندرونی تغیر سے پیدا ہونے والا ہو وہ بہر حال اندرونی تغیر کا محتاج ہوتا ہے جب تک اندر تغیر نہ ہو باہر کوئی اثر ظاہر نہیں ہوسکتا۔انبیاء کی جماعتیں بھی اسی قسم میں شامل ہیں جو اندرونی تغیرات کی محتاج ہوتی ہیں۔وہ دنیا سے متاثر نہیں ہوتیں بلکہ دنیا کو متاثر کرتی ہیں۔جو چیزیں دنیا سے متاثر ہونے کے لئے پیدا ہوتی ہیں وہ تو بہر حال اسی غرض کے لئے پیدا ہوتی ہیں۔مگر جو چیزیں متاثر کرنے کے لئے پیدا ہوتی ہیں جب تک خودان میں قوت مؤثرہ نہ ہو وہ کسی کام نہیں آسکتیں۔بس اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ میں اس امر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ ہماری جماعت کو ہمیشہ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کا گروہ اپنے سامنے رکھنا چاہیے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔تم میں سے ہر شخص نے تصویر تو نہیں کھینچی ہوگی لیکن دوسروں کو تصویر کھینچتے تم میں سے اکثر نے دیکھا ہوگا۔تم نے دیکھا ہوگا کہ بعض لوگ ہاتھ میں برش لئے اور سامنے کا غذ یا کپڑا لٹکائے بعض دفعہ دریا یا نہر یا پہاڑ یا ایسے ہی کسی اور نظارہ کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔وہ اس نظارہ کو دیکھتے جاتے ہیں اور تھوڑی تھوڑی دیر کے