خطبات محمود (جلد 28) — Page 399
خطبات محمود 399 سال 1947ء دروازے اور کھڑکیاں اور چھتیں دیودار 3 کی بنائی جائیں یا چیل کی بنائی جائیں یا کیل کی بنائی جائیں مجھ یا ٹیک 4 (TEAK ) ( یعنی ساگوان ) کی بنائی جائیں۔حالانکہ ٹھیک کا بنا ہوا دروازہ بھی دروازہ ہی کہلاتا ہے۔چیل کا بنا ہوا دروازہ بھی دروازہ ہی کہلاتا ہے۔کیل کا بنا ہوا دروازہ بھی دروازہ کہلاتا ہے۔دیودار کا بنا ہوا دروازہ بھی دروازہ ہی کہلاتا ہے۔ٹیک یا چیل یا کیل یاد یودار کی وجہ سے وہ کوئی نئی چیز نہیں بن جاتی۔اسی طرح دنیوی سامان بھی محض زیبائش ہوتے ہیں اور ان سامانوں کو اختیار کرنا ایسی ہی بات ہوتی ہے جیسے لکڑی کے لئے ہم یہ تجویز کریں کہ کیل آجائے یاد یار یا چیل اور ٹیک وغیرہ آجائے۔اصل چیز جس سے دینی سلسلوں کا ارتقاء وابستہ ہے وہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو کسی اٹھی سلسلہ میں داخل ہوں صراط مستقیم پر چلنے والے ہوں اور صراط مستقیم پر جا کر جو لوگ خدا تعالیٰ کے انعام حاصل پر کر چکے ہوں اُن کے نقش قدم کی اتباع کرنے والے ہوں۔اگر یہ نیک تغییران میں پیدا ہو جائے کہ وہ خدا تعالیٰ کی رضا اختیار کریں ، صراط مستقیم پر چلیں اور پہلے نیک لوگوں کی نقل کریں تو یقینا ان کے اندر کامیابی کے سامان پیدا ہو جاتے ہیں۔اور جب ان کے اندر کامیابی کے سامان پیدا ہو جائیں تو باہر کی دنیا میں بھی پیدا ہونے لگ جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ انسان کی نجات کا ذریعہ پہلے اس کے اندر پیدا ہوتا ہے اور پھر بعد میں بیرونی دنیا میں اس کا ظہور ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام ہے جو پہلے کبھی شائع نہیں ہوا کہ حق اولاد در اولاد۔یعنی اولاد کا حق اس کے اندر موجود ہے۔یہ ضروری نہیں کہ اس جگہ اولاد سے صرف جسمانی اولا دمراد ہو۔بلکہ ہر احمدی جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو قبول کیا وہ آپ کی روحانی اولاد میں شامل ہے۔اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم یہ نہ سمجھو کہ تمہارے لئے کامیابی کے سامان باہر سے پیدا ہو نگے۔بلکہ پہلے یہ سامان خود تمہارے اندر پیدا ہوں گے۔اور ہم نے ان سامانوں کے پیدا کرنے کے تمام ذرائع مہیا کر دئیے ہیں۔ہم نے اپنی تعلمیں تمہارے سامنے کھول کھول کر بیان کر دی ہیں۔جتنا جتنا تم ان تعلیموں کو اپنی عملی تھی زندگی میں شامل کرتے جاؤ گے اتنا ہی تمہارے لئے بیرونی دنیا میں تغیر پیدا ہوتا چلا جائے گا۔گویا تمہارا حق تمہیں بیرونی دنیا سے نہیں ملے گا بلکہ تمہارے اپنے دل کی طاقت سے تمہارا حق تمہیں ملے گا۔جتنا جتنا تم اپنے دل میں نیک تغیر پیدا کرو گے، جتنی جتنی تم اپنے اندر اصلاحات کرو گے تمہیں یقین رکھنا ہے چاہیئے کہ اسی تغیر اور اسی اصلاح کے مطابق دنیا چکر کھاتی جائے گی۔