خطبات محمود (جلد 28) — Page 383
خطبات محمود 383 سال 1947ء جماعتوں کا بھی یہی حال ہے۔بیشک انہیں وقتیں بھی ہیں اور کئی مقامات سے منی آرڈر نہیں آسکتے اور جماعتیں اپنے آدمیوں کے ذریعہ چندہ بھجواتی ہیں مگر پھر بھی اُن کی سستی اس وجہ سے ہے کہ انہیں ابھی صحیح حالات معلوم نہیں ہوئے اور اس لئے وہ قربانی میں پورے طور پر حصہ نہیں لے رہے۔بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک دوسرا الہام بھی اس موقع پر نہایت شاندار طریق پر پورا ہوا ہے۔اور وہ الہام بَلِيَّةُ مَالِيَّةٌ 7 کا ہے یعنی ایک خطر ناک مالی مصیبت جماعت کو پیش آنے والی ہے۔چنانچہ اُدھر یہ ابتلاء آیا اور ادھر مالی مصیبت بھی ساتھ ہی پیش آگئی۔ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے یقین رکھتے ہیں کہ یہ مصیبت جلد دور ہو جائے گی اور ہماری مشکلات کا دور ختم ہو جائے گا۔ہمیں اگر دکھ ہے تو یہ کہ دیر سے ہمارے ساتھ چلنے والے بعض لوگ ان مشکلات میں سلسلہ سے نکالے نہ جائیں۔جب خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ ابتلاء محض اسی لئے آیا ہے کہ انہیں جانچا جائے اور ان کا امتحان لیا جائے تو ایسا نہ ہو کہ اُن میں بے ایمانی پیدا ہو جائے اور انہیں سلسلہ سے الگ ہونا پڑے۔جس طرح بچے کا رونا ماں کے لئے مصیبت ہوتی ہے اسی طرح پُرانے دوستوں کا بچھڑنا اور اُن کا الگ ہونا بھی ایک دکھ کا موجب ہوتا ہے۔مگر یہ ہمارے بس کی بات نہیں۔ہر شخص جو اپنے اندر ایک تغیر پیدا نہیں کرتا اس سلسلہ سے ضرور نکالا جائے گا۔میری رشته داری یا میری دوستی یا میری مجالس میں آگے بڑھ بڑھ کر بیٹھنا اور باتیں کرنا۔انہیں ہرگز فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تو خدا کی قسم ! میں اُس کا ہاتھ کاٹ دوں۔اسی طرح کون ہے جو ان دنوں میں سنگ دلی سے کام لے جب خدا تعالیٰ کی جماعت مشکلات میں مبتلا ہو۔اور پھر یہ سمجھ لے کہ میرے ساتھ اُس کا کوئی واسطہ یا رشتہ اُسے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچالے گا۔میری رشتہ داری یا میری دوستی کسی کو الہی عذاب سے بچا نہیں سکتی۔اگر کوئی غلط راستہ پر قدم مارتا ہے تو وہ ضرور ہلاک ہو گا۔ہاں ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے ضرور پورے ہونگے اور وہ اپنی جماعت کو ان بلاؤں کے طوفان میں ضرور محفوظ رکھے گا۔ہمارے لئے جو سوال ہے وہ یہ نہیں کہ خدا اپنی جماعت کو بچائے گا یا نہیں؟ ہمارے لئے جو سوال اہمیت رکھتا۔وہ یہ ہے کہ ہمارے دوست اور عزیز اُس کے عذاب سے بچ جائیں۔ورنہ خدا اپنی جماعت کو