خطبات محمود (جلد 28) — Page 382
خطبات محمود 382 سال 1947ء چندہ بھجوانے میں اُنہیں بہت سی وقتیں ہیں مگر پھر بھی ہزار ہزار میل دور بیٹھے اُن کے اندر قربانی کا جو جذ بہ پایا جاتا ہے وہ یہاں کی جماعت سے بہت زیادہ ہے۔کلکتہ، لکھنو اور حیدر آباد وغیرہ کی جماعتوں میں بڑے زور شور سے یہ تحریک جاری ہے کہ ہمیں پچاس فیصدی چندہ دینا چاہیے اور بعض نے تو بینکوں میں روپیہ جمع کرانا بھی شروع کر دیا ہے۔صرف ڈرافٹ کا انتظار ہے۔مگر یہاں کی جماعتوں نے ابھی اس میں حصہ نہیں لیا۔جس کا نتیجہ یہ ہے کہ جن جماعتوں کا چندہ پہنچ رہا ہے وہ بہت کم ہے اور ہماری ماہوار آمدن آٹھ دس اور پندرہ ہزار تک ہے۔حالانکہ یہ رقم قادیان کے لنگر کا خرچ بھی برداشت نہیں کر سکتی۔کجا یہ کہ لاہور کے لنگر کا خرچ اس سے چلایا جائے۔صدر انجمن احمدیہ کے کارکنوں کو تنخواہیں دی جائیں۔تحریک جدید کے کارکنوں کو وظائف دیئے جائیں۔باہر کے مبلغین کو اخراجات بھجوائے جائیں۔ہندوستان کے مبلغوں کے اخراجات برادشت کئے جائیں۔کالجوں ،سکولوں اور اخباروں کا بوجھ اُٹھایا جائے۔ہمارا خرچ قریباً سوا یا ڈیڑھ لاکھ روپیہ ماہوار تھا۔مگر اب اوسط ماہوار آمد پندرہ ہزار کے قریب ہے۔حالانکہ خرچ بڑھ کر پونے دولاکھ روپیہ ماہوار تک پہنچ گیا ہے۔پونے دولاکھ خرچ اور پندرہ ہزار آمد ہو تو خود ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جماعت کی کیا حالت ہوگی۔دُور کے لوگ تو شاید سمجھتے ہوں کہ کوئی سونے کی کان نکل آئی ہے جس سے جماعت کام چلا رہی ہے۔مگر کیا لا ہور والوں کو نظر نہیں آرہا کہ سلسلہ پر کیا مشکلات ہیں اور ان کی اپنی حالت کیا ہے۔بجائے اس کے کہ وہ گیارہ بارہ ہزار چندہ دیتے انہوں نے اپنے لکھوائے ہوئے بجٹ سے بھی کم اور بہت کم چندہ دیا ہے۔حالانکہ اگر وہ دیانتداری سے اپنی آمد نہیں لکھوائیں اور پچاس فیصدی کے حساب سے چندہ دیں تو یہاں کی جماعت ہی ہیں پچیس ہزار روپیہ ماہوار چندہ دے سکتی ہے۔بشرطیکہ اُن کو مشکلات کا احساس ہو۔اور ویسا ہی احساس ہو جیسے کسی کی بیوی یا کسی کا بچہ بیمار ہو جاتا ہے یا کسی کے ہاں شادی کی کوئی تقریب آ جاتی ہے تو اُسے احساس ہوتا ہے۔بسا اوقات لوگ بیٹوں کی شادی پر اتنا قرض لے لیتے ہیں کہ میں بیس سال تک قرض ادا کرتے رہتے ہیں۔کیا دین پر مصیبت آئے تو اُس وقت ایک مومن کو ایسی ہی بلکہ می اس سے بھی بڑھ کر قربانی نہیں کرنی چاہیئے ؟ یقیناً ایسی ہی قربانی کرنی چاہیئے۔مگر ضرورت ہے توجہ کی ضرورت ہے اخلاص اور ایمان کی ضرورت ہے جذبہ ایثار اور قربانی کی ، باہر کی