خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 366 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 366

خطبات محمود 366 (39) سال 1947ء انبیاء کی جماعتیں بغیر عظیم الشان ابتلاؤں کے ترقی نہیں کیا کرتیں (فرموده 31 اکتوبر 1947 ء بمقام لاہور ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: انسان کی عقل کا اندازہ بہت چھوٹی چھوٹی چیزوں سے لگایا جا سکتا ہے۔خطیب کا رخ اپنے مخاطبوں کی طرف ہوتا ہے۔لیکن آج جو لاؤڈ سپیکر لگایا گیا ہے اس میں خطیب سے یہ خواہش کی گئی ہے کہ وہ باہر کی طرف منہ کر کے بولے اور اس کے تمام مخاطب مرد اور عورت اس کے بائیں کندھے کی طرف ہوں۔لگانے والے کو پتہ تھا کہ لوگ اس طرف بیٹھے ہیں اُسے یہ بھی معلوم تھا کہ خطیب کی آنکھیں اُس کے ماتھے میں ہیں کان میں نہیں۔مگر نہ معلوم کس خیال سے اس نے اس طرح لاؤڈ سپیکر لگا دیا ہے کہ اگر میں اُدھر منہ کر کے بولوں اور جو دھامل بلڈنگ کو مخاطب کروں تب تو اُس کی غرض پوری ہوتی ہے ورنہ نہیں۔مومن کی شان یہ بھی ہے کہ وہ ہوشیار ہونا چاہیئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو آپ فرماتے صَفُوا صُفُوفَكُمُ 1 اپنی صفیں ٹھیک کرو۔پھر آپ فرماتے کہ اگر تم نے اپنی صفیں ٹھیک نہ کیں تو تمہارے دل ٹیڑھے ہو جائیں گے 2۔دیکھو نظام کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنا خیال رکھا ہے کہ آپ نے یہ فیصلہ فرما دیا کہ اگر تم نے نظام کی پابندی نہ کی تو تمہارے دل ٹیڑھے ہو جائیں گے یعنی تمہاری عقل کمزور ہو جائے گی۔یہ سیدھی بات ہے کہ جو غلطی آنکھوں سے نظر آ رہی ہوا سے برداشت