خطبات محمود (جلد 28) — Page 352
خطبات محمود 352 سال 1947ء قانون ہے کہ جب کوئی جماعت چھوٹی ہو تو اسے اپنی تعداد بڑھانے کے لئے ان لوگوں تک پہنچنا چاہیئے جو اس جماعت میں شامل ہونے سے محروم ہوں۔اگر قرآن ساری دنیا کے لئے آیا ہے تو پھر قرآن ایک امانت ہے جس میں کچھ میرا حصہ ہے، کچھ میرے سکھ ہمسائے کا ہے، کچھ عیسائی ہمسائے کا ہے، کچھ ہندو ہمسائے کا ہے۔اگر ہم نے قرآن اپنے گھر میں رکھ لیا ہے اور ہم محض اس بات پر خوش ہو گئے ہیں کہ ہمارے گھر میں قرآن آ گیا۔مگر ہم ایک عیسائی ، ایک ہندو اور می ایک سکھ کا حصہ اسے نہیں دیتے تو ہم خدا تعالیٰ کے سامنے کیا منہ لے کر جائیں گے۔اور کیا ہم ان کا حصہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے غدار اور بد دیانت کہلا ئینگے یا مومن کہلائیں گے ؟ پس اپنے اندر تبدیلی پیدا کر کے اپنے آپ کو سچا مومن بناؤ تا جلد سے جلد وہ امانت ادا ہو سکے جس کا ادا کرنا خدا تعالیٰ نے ہمارے ذمہ رکھا ہوا ہے۔اگر ہم اسلام کا وہ حصہ جو ہندوؤں اور سکھوں اور دوسری تمام غیر اقوام کے لئے آیا ہے اُن تک پہنچا دیں تو پھر ان سے لڑائی کے کوئی معنی ہی نہیں رہ سکتے۔وہ ہمارے بھائی بن جائیں گے اور نہ صرف ہمارا حق ہم کو دیں گے بلکہ جوشِ محبت اور اخلاص میں اپنا حق کی ہمیں دینے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔میں نے جماعت کے سامنے یہ تجویز رکھی تھی کہ ہر شخص پندرہ پندرہ دن تبلیغ کے لئے وقف کرے۔اور میں نے کہا تھا کہ جو لوگ اس فرض کے لئے اپنے آپ کو وقف کریں وہ بغیر ایک پیسہ لئے اُسی طرح تبلیغ کے لئے نکل کھڑے ہوں جیسے حضرت مسیح نے اپنے حواریوں کو کہا کہ ”نہ سونا اپنے کمر بند میں رکھنا نہ چاندی نہ پیسے۔راستہ کے لئے نہ جھولی لینا نہ دو دو گرتے نہ جھوتیاں نہ لاٹھی۔کیونکہ مزدور اپنی خوراک کا حقدار ہے۔6 در حقیقت اس میں تبلیغ کا صحیح راستہ بتایا گیا ہے۔جو شخص تبلیغ میں بھی امارت کو اپنے ساتھ رکھتا ہے وہ مبلغ نہیں بلکہ ایک ملنے والا خزانہ ہے۔مبلغ وہی ہے جو خالی ہاتھ جائے اور اخوت کے جذبات کے ساتھ جائے۔اگر اس کے پاس کوئی ہے بیہ نہیں ہو گا تو لازماً اسے روٹی کھانے کے لئے دوسروں کے پاس جانا پڑے گا۔اور جب وہ کسی دوسرے شخص کے پاس اس غرض کے لئے جانے پر مجبور ہوگا کہ روٹی کھائے تو لازما ہر غریب سے غریب انسان کے پاس وہ ایک بھائی کے طور پر جائے گا۔اور ایک بھائی کے طور پر اس نے تعلقات رکھے گا۔وہ غریب کی دشکنی نہیں کرے گا۔وہ اس سے تعلقات رکھنے پر ناک بھوں 66