خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 317

خطبات محمود 317 سال 1947ء مصائب کو دیکھ کر کتنا ڈر رہے ہیں۔مگر کیا تم نے کبھی سوچا کہ تمہارے یہ مصائب اُن مصائب کے مقابلہ میں کیا حقیقت رکھتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس سلسلہ کے قیام کے وقت برداشت کئے تھے۔جس دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعویٰ کیا تھا اُس دن جو کیفیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل کی ہوگی اگر وہی کیفیت ہم اپنے دل میں پیدا کر لیں اور ہم آپ کے بچے پیر و بن جائیں تو ہمارے دل کے حوصلے بلند ہونے چاہئیں۔اور ہمیں سمجھ لینا نی چاہئے کہ جو کام ہمارے آقا نے کیا تھا وہی کام کرنا ہمارا فرض ہے۔وہ اکیلے تھے مگر ہم اب بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے لاکھوں ہیں۔بے شک ہمارے کچھ حصہ کی جائیدادیں تباہ ہوئی ہیں۔یعنی ان لوگوں کی جائیداد میں جو مشرقی پنجاب میں تھے۔مگر ہماری مغربی پنجاب کی جائیدادیں تباہ نہیں ہوئیں اگر قربانی کی ہم میں سچی روح ہے تو جیسا کہ میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں تمہیں سمجھ لینا چاہیئے کہ آئندہ کے لئے تمہارا مال تمہارا نہیں بلکہ خدا کا ہے۔جو کچھ تم کماؤ گے وہ سب کچھ خدا کا مال ہوگا۔تمہیں اس میں سے صرف روٹی ملے گی بلکہ ہو سکتا ہے کہ وہ بھی نہ ملے۔یا جیسے میں نے کہا تھا تمہارا فرض ہے کہ تبلیغ کرو اور بھیک مانگ کر گزارہ کرو۔تم پندرہ پندرہ دن تبلیغ کے لئے وقف کرو اور اس رنگ میں وقف کرو کہ سلسلہ سے ایک پیسہ بھی نہ لو تا کہ اگر خدا تعالیٰ کے لئے تمہیں کسی وقت بھیک مانگنی پڑے تو تم اس کے لئے تیار رہو۔اور تا خدانخواستہ ہماری مغربی پنجاب کی جائیداد میں بھی کسی وقت ابتلاء میں آجائیں تو ہم میں سے ہر شخص مبلغ ہو اور اسے عادت ہو کہ وہ بھیک مانگے اور تبلیغ کرے۔ہمارے سامنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیاء کا تھی نمونہ موجود ہے۔اور انبیاء کے متعلق تو تم کہہ سکتے ہو کہ وہ پرانے انبیاء ہیں ہم نے اپنی آنکھوں سے ان کے نمونہ کو نہیں دیکھا مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات تو تمہارے سامنے گزرے ہیں۔اور اگر تم نے اُن کو نہیں دیکھا تو کم سے کم دیکھنے والوں نے اُن واقعات کو دیکھا ہے اور وہ واقعات اتنے قریب کے ہیں کہ دشمن بھی ان کا انکار نہیں کر سکتا۔پھر تمہارے لئے کونسی مشکل ہے۔نمونہ تمہارے سامنے موجود ہے تمہارا کام یہ ہے کہ تم اس نمونہ کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال لو۔اگر تم حقیقی اور بچے احمدی بن جاؤ تو میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ بارہ مہینے انسان کے گنے ہوئے ٹھیک بارہ مہینے نہیں گزریں گے اور تمہاری طاقت اور شوکت پہلے سے کئی گنا بڑھ۔