خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 293

خطبات محمود 293 سال 1947ء سیدھی چلی جاتی ہیں اُسی طرح وہ مکان ایک لائن میں سیدھا بنا ہوا ہے۔مگر کمرے صاف ہیں۔میں ابھی غور ہی کر رہا تھا کہ جو شخص مجھے کمرے دکھا رہا تھا اُس نے خیال کیا کہ کہیں میں یہ نہ کہہ دوں کہ یہ ایک پادری کی جگہ ہے ہم اس میں نہیں رہتے ، ایسا نہ ہو کہ ہماری عبادت میں روک پیدا ہو۔چنانچہ وہ خود ہی کہنے لگا کہ آپ کو یہاں کوئی تکلیف نہ ہوگی۔کیونکہ یہاں مسجد بھی ہے۔میں نے اُسے کہا اچھا مجھے مسجد دکھاؤ۔اُس نے مجھے مسجد دکھائی جو نہایت خوبصورت بنی ہوئی تھی۔مگر چھوٹی سی تھی۔ہماری مسجد مبارک سے نصف ہو گی۔لیکن اُس میں چٹایاں اور دریاں وغیرہ بچھی ہوئی تھیں۔اسی طرح امام کی جگہ ایک صاف قالینی مصلی بھی بچھا ہوا تھا۔مجھے اُس مسجد کو دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی اور میں نے کہا کہ ہمیں یہ جگہ منظور ہے۔خواب میں میں نے یہ خیال نہیں کیا کہ مسجد وہاں کس طرح بنائی گئی ہے۔مگر بہر حال مسجد دیکھ کر مجھے مزید تسلی ہوئی اور میں نے کہا اچھا ہوا مکان بھی مل گیا اور ساتھ ہی مسجد بھی مل گئی۔تھوڑی دیر کے بعد میں باہر نکلا۔میں نے دیکھا کہ اکا دُکا احمدی وہاں آ رہے ہیں۔خواب میں میں حیران ہوتا ہوں کہ میں نے تو ان سے یہاں آنے کا ذکر نہیں کیا تھا ان کو جو میرے یہاں آنے کا پتہ لگ گیا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی محفوظ جگہ نہیں چاہتے۔یہ دوست ہی ہیں لیکن اگر دوست کو ایک مقام کا علم ہوسکتا ہے تو دشمن کو بھی ہوسکتا ہے محفوظ مقام تو نہ رہا۔چنانچہ خواب میں میں پریشان ہوتا ہوں اور میں کہتا ہوں کہ ہمیں پہاڑوں میں اور زیادہ دُور کوئی جگہ تلاش کرنی چاہیئے۔اتنے میں میں نے دیکھا کہ شیخ محمد نصیب صاحب یہاں آ گئے ہیں۔میں اُس وقت مکان کے دروازہ کے سامنے کھڑا ہوں۔اُنہوں نے مجھے سلام کیا۔میں نے اُن سے کہا کہ لڑائی کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا دشمن غالب آ گیا ہے۔میں کہتا ہوں کہ مسجد مبارک کا کیا حال ہے؟ انہوں نے اس کا یہ جواب دیا کہ مسجد مبارک کا حلقہ اب تک لڑ رہا ہے۔میں نے کہا اگر مسجد مبارک کا حلقہ اب تک لڑ رہا ہے تب تو کامیابی کی اُمید ہے۔میں اُس وقت سمجھتا ہوں کہ ہم تنظیم کے لئے وہاں آئے ہیں اور تنظیم کرنے کے بعد دشمن کو پھر شکست دیں گے۔اس کے بعد میں نے دیکھا کہ کچھ اور دوست بھی وہاں پہنچ پچ گئے ہیں۔اُن کو دیکھ کر مجھے اور پریشانی ہوئی اور میں نے کہا کہ یہ تو بالکل عام جگہ معلوم ہوتی۔حفاظت کے لئے یہ کوئی خاص مقام نہیں۔اُن دوستوں میں ایک حافظ محمد ابراہیم صاحب بھی ہے