خطبات محمود (جلد 28) — Page 292
خطبات محمود 292 سال 1947ء خیال کرتا ہوں کہ پٹرول ہمیں موٹروں کے لئے نہیں چاہئے بلکہ دشمن پر پھینکنے کے لئے پڑول کی ضرورت ہے۔چنانچہ مجھے کسی شخص نے بتایا کہ نیچے ایک تہہ خانہ ہے جس میں پٹرول موجود ہے۔اس پر ایک شخص تہہ خانہ میں گیا اور چھ گین پڑول کی بیرل لے کر آ گیا۔ساتھ ہی اُس کے دوسرے ہاتھ میں ایک سیڑھی ہے تا کہ سیڑھی کی مدد سے وہ اوپر چڑھ کر دشمن پر پٹرول پھینک سکے۔پھر دونوں چیزیں اُٹھا کر اُس نے اوپر چڑھنا شروع کر دیا اور اتنی تیزی سے وہ چڑھنے لگا کہ یوں معلوم ہوتا تھا گر جائیگا۔چنانچہ میں اُسے کہتا ہوں سنبھل کر چلو۔ایسا نہ ہو گر جاؤ۔اور خواب میں میں حیران بھی ہوتا ہوں کہ یہ کیسا بہا در آدمی ہے کہ اس کے ایک ہاتھ میں چھ گین یعنی تین سیر پٹرول ہے اور دوسرے ہاتھ میں سیڑھی ہے اور یہ اس بہادری سے چڑھتا چلا جاتا ہے۔پھر یہ نظارہ بدل گیا اور مجھے یوں معلوم ہوا کہ جیسے ہم اُس مکان سے نکل آئے ہیں۔اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دشمن غالب آ گیا ہے اور ہمیں وہ جگہ چھوڑنی پڑی ہے۔باہر نکل کر ہم حیران ہیں کہ کس جگہ جائیں اور کہاں جا کر اپنی حفاظت کا سامان کریں۔اتنے میں ایک شخص آیا اور اُس نے کہا میں آپ کو ایک جگہ بتا تا ہوں۔آپ پہاڑوں پر چلیں وہاں اٹلی کے ایک پادری نے گر جا بنایا ہوا ہے اور ساتھ ہی اُس نے بعض عمارتیں بھی بنائی ہوئی ہیں جنہیں وہ کرایہ پر مسافروں کو دے دیتا ہے۔وہاں چلیں۔وہ مقام سب سے بہتر رہے گا۔میں کہتا ہوں بہت اچھا۔چنانچہ میں گائیڈ (GUIDD) کو لے کر پیدل چل پڑتا ہوں۔ایک دو دوست اور بھی میرے ساتھ ہیں۔چلتے چلتے ہم پہاڑیوں کی چوٹیوں پر پہنچ گئے مگر وہ ایسی چوٹیاں ہیں جو ہموار ہیں۔اس طرح نہیں کہ کوئی چوٹی اونچی ہوا اور کوئی نیچی جیسے عام طور پر پہاڑوں کی چوٹیاں ہوتی ہیں۔بلکہ وہ سب ہموار ہیں جس کے نتیجہ میں پہاڑ پر ایک میدان سا پیدا ہو گیا ہے۔وہاں میں نے دیکھا کہ ایک پادری کالا سا کوٹ پہنے کھڑا ہے اور پاس ہی ایک چھوٹا سا گر جا ہے۔اُس آدمی نے پادری نی سے کہا کہ باہر سے کچھ مسافر آئے ہیں انہیں ٹھہرنے کیلئے مکان چاہئیں۔وہاں ایک مکان بنا ہوا نظر آتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ پادری لوگوں کو کرایہ پر جگہ دیتا ہے۔اس نے ایک آدمی سے کہا کہ انہیں مکان دکھا دیا جائے۔وہ مجھے مکان دکھانے کے لئے لے گیا۔ایک دو دوست اور بھی ہیں۔میں نے دیکھا کہ وہ کچا مکان ہے اور جیسے فوجی بار کیس (BARRACK)