خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 287

خطبات محمود 287 سال 1947ء گھروں کو آگ نہیں لگا سکتے تھے تو جب تم نے دیکھا تھا کہ اب مقابلہ کرنا تمہارے لئے مشکل ہے اُس وقت تم 25 30 فٹ کا گڑھا کھودتے اور برتن اور زیورات وہیں پھینک کر آ جاتے۔اس صورت میں امید ہوسکتی تھی کہ اگر آب نہیں تو دس سال کے بعد ہی شاید تم اُن چیزوں کو حاصل کر لو یا کہیں کھیت میں گڑھا کھود کر دبا دیتے اور اوپر گھانس 4 وغیرہ ڈال دیتے۔اس طرح دشمن کو پتہ بھی نہ لگتا کہ تمہارا قیمتی اسباب کہاں پڑا ہے۔یورپ کے لوگوں میں یہ عقل پائی جاتی ہے کہ وہ جی مغلوب ہوتے وقت اپنی ہر چیز اپنے ہاتھ سے تباہ کر دیتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ زبر دست سے ز بر دست دشمن بھاگنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔کیونکہ وہ جہاں جاتا ہے اُسے کھانے کے لئے کچھ نہیں ملتا ، پہننے کے لئے کچھ نہیں ملتا، استعمال کرنے کے لئے کچھ نہیں ملتا ، اور اُن کا بوجھ قوم پر اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ وہ زیادہ دیر تک اُن مقامات میں نہیں رہ سکتے۔یہی کچھ مسلمانوں کو کرنا چاہیئے تھا۔مگر افسوس ہے کہ انہوں نے ایسا نہ کیا۔سکھوں نے اس حربہ سے بھی کام لیا ہے۔چنانچہ بہت سے دیہات اور قصبات کے متعلق یہ اطلاع ملی ہے کہ جب اُن گاؤں اور قصبوں کو اُنہوں نے خالی کیا تو انہوں نے سب کچھ جلا کر رکھ دیا تا کہ مسلمان اُن کی چیزوں سے فائدہ نہ اُٹھا سکیں۔اب پھر میں اُن لوگوں کو جو مشرقی پنجاب سے آئے ہیں کہتا ہوں کہ تمہارا ادھر آنا بے فائدہ ہے تم اپنے اپنے مقامات میں واپس جانے کی کوشش کرو۔اگر دور دور کے گاؤں میں نہیں جاسکتے تو تم لا ہور، سیالکوٹ اور قصور کے پاس پاس چلے جاؤ ی۔اسی طرح فیروز پور کے ارد گر در ہو یا تم اجنالہ میں رہو یا بٹالہ میں رہو یا گورداسپور میں رہو۔یہ تحصیلیں ایسی ہیں جو پاکستان سے لگتی ہیں دو گھنٹے میں انسان اُدھر جا سکتا ہے اور دو گھنٹے میں انسان اِدھر آ سکتا ہے۔اگر چوالیس لاکھ مسلمان مشرقی پنجاب سے نکل آیا تو یا درکھو کہ چار کروڑ مسلمان جو یو پی بمبئی اور مدراس میں رہتا ہے وہ سب کا سب مارا جائے گا اور سارا گناہ ان مسلمانوں پر ہو گا جو مشرقی پنجاب میں سے بھاگ رہے ہیں۔تم دس دس میل کے فاصلہ سے بھاگ رہے ہو اور پاکستان میں آرہے ہو تو اُن کے اور پاکستان کے درمیان تو تین چارسو میل کا فاصلہ ہے وہ کس طرح آئیں گے۔یقینا وہ اُسی جگہ مارے جائیں گے۔لیکن اگر اُن کو تسلی ہوئی کہ مسلمان بھگوڑے نہیں تو اُن کے اندر بھی جرات پیدا ہو جائے گی اور وہ بھی کی اپنے اپنے مقام پر کھڑے رہیں گے۔ورنہ یاد رکھو کہ جتنا ثواب حضرت معین الدین صاحب چشتی،