خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 265

خطبات محمود 265 سال 1947ء موجود تھے۔صرف فرق اتنا ہے کہ جیسے کسی خاندان کے تین لڑکے ہوں اور اُن میں سے دو بھائی تو اکٹھے ہوں اور اُنہوں نے ابھی تک اپنی جائیداد تقسیم نہ کی ہوئی ہو اور تیسرا بھائی الگ ہو چکا ہوا ہو۔پھر کچھ عرصہ کے بعد حوادث زمانہ سے وہ دونوں بھائی جو ا کٹھے رہ گئے تھے جائیداد کو تقسیم کر لیں اور الگ الگ رہنے لگ جائیں۔پہلے بھائی کی جدائی کا تو کوئی خاص اثر نہ تھا۔لیکن اب جودو بھائی تھی ایک دوسرے سے الگ الگ ہوں گے تو وہ ایک دوسرے کے مکانوں کو دیکھ کر، ایک دوسرے کے انتظامات کو دیکھ کر ضرور ایک پچھن سی اپنے دلوں میں محسوس کریں گے اور ان کی آنکھوں میں پانی بھر آئے گا۔پس گو ہماری جماعت کے افراد پہلے بھی غیر ملکوں میں رہتے تھے مگر وہ تو پہلے ہی ہم سے الگ رہتے تھے۔مگر اب جو ہمارے بھائی ہم سے الگ ہو رہے ہیں وہ ایک عرصہ سے اکٹھے رہتے آرہے تھے۔اب ہم ایک دوسرے سے اس طرح ملا کریں گے جیسے غیر ملکی لوگ آپس میں ملا کرتے ہیں۔پس ہم اس آزادی اور جُدائی کے موقع پر خدا تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اِن دونوں ملکوں ہی کو ترقی بخشے۔ان دونوں ملکوں کو عدل اور انصاف پر قائم رہنے کی توفیق بخشے۔اور ان دونوں ملکوں کے لوگوں کے دلوں میں محبت اور پیار کی روح بھر دے۔یہ دونوں ملک ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔لیکن برادرانہ طور پر ، ہمدردانہ طور پر ، اور مخلصانہ طور پر۔اور جہاں ان میں روح مقابلہ پائی جائے وہاں ان میں تعاون اور ہمدردی کی روح بھی پائی جا۔یہ ایک دوسرے کے دُکھ سکھ میں شریک حال ہوں۔خدا تعالیٰ انہیں ہر شر سے بچائے اور اپنے فضل سے امن صلح اور سمجھوتے کے ذریعہ سے ایسے سامان پیدا کر دے کہ ہم پھر اس ملک کو اکٹھا دیکھ سکیں اور اس کو اسلام کی روشنی کے پھیلانے کا مرکز بنا سکیں۔(اللَّهُمَّ آمِينَ) الفضل 16 اگست 1947 ء)