خطبات محمود (جلد 28) — Page 241
خطبات محمود 241 سال 1947ء کے احمدی نکال دیئے جائیں تب بھی ہندوستان کے اندر رہنے والے احمدیوں میں سے پندرہ یا سولہ فیصدی اس میں شامل ہونے سے ابھی تک محروم ہیں۔اور یہ ایک نہایت ہی افسوس ناک امر ہے۔کیونکہ زندہ اور روحانی جماعتوں کے لئے تو ایک فیصدی لوگوں کا محروم رہ جانا بھی نہایت لی افسوسناک ہوتا ہے گجا یہ کہ پندرہ یا سولہ فیصدی لوگ کسی تحریک میں حصہ لینے سے محروم رہ جائیں۔یہ تحریک اپنی ذات میں ایک نئی قسم کی تحریک ہے جس کے ذریعہ جماعت کو اس امر کی طرف لا یا جا رہا ہے کہ ہماری جائیدادیں گئی طور پر خدا تعالیٰ کی جائیدادیں ہوں۔اور ہم بیعت کرتے وقت جو اقرار کیا کرتے ہیں کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے اس کا ثبوت ہمارے عمل سے ظاہر ہو۔ابھی تو زبانی طور پر لوگ اپنی جائیدادوں کو وقف کر رہے ہیں اور اُن سے مطالبہ صرف ایک فیصدی کا کیا گیا ہے۔باقی ننانوے فیصدی اُنہی کے پاس رہتا ہے۔لیکن جوں جوں ہماری ہے جماعت کا ایمان مضبوط ہوتا چلا جائے گا اور جوں جوں سلسلہ کی ضروریات بڑھتی جائیں گی یہ مطالبات بھی زیادہ ہوتے جائیں گے۔لیکن ان مطالبات کا ہونا جہاں مومنوں کے لئے خدا تعالیٰ کی رحمتوں اور اُس کے فضلوں کے حصول کا ایک ذریعہ بن رہا ہے وہاں یہ کمزوروں اور غیر مخلصوں کے لئے ٹھوکر اور ابتلا کا بھی موجب ہے۔میں تو حیران ہوں کہ ملک کے حالات کو دیکھنے کے با وجود ایک مومن کہلانے والا شخص کس طرح زبانی طور پر بھی اپنی جائیداد پیش کرنے سے ہچکچاتا ہے۔حالانکہ یہ زمانہ ایسا ہے کہ کئی صوبوں اور علاقوں میں مسلمانوں کی ساری کی ساری جائیدادیں تباہ ہو چکی ہیں۔پس بجائے اس کے کہ کوئی دوسرا ان کی جائیدادوں کو تباہ کرے وہ اپنی مرضی سے اپنی جائیدادوں کو اس طرح وقف کر دیں کہ ضرورت کے موقع پر ان سے فائدہ اٹھایا جا سکے اور وقت آنے پر خطرات کے بوجھ کو اٹھایا جا سکے۔موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے کی بھی اس تحریک میں حصہ نہ لینا اور اس سے گریز کرنا دانشمندی کے بالکل خلاف ہے۔امرتسر اور لا ہور میں جن لوگوں کے مکانات جلے ہیں وہ آخر اُن کی جائیداد میں ہی تھیں۔اور ان مکانوں کے جلنے میں صرف چند گھنٹے لگے ہیں۔میں سمجھتا ہوں اگر وہ لوگ وقت کی نزاکت کو سمجھتے اور اپنے ملک اور قوم کی خدمت کے لئے اپنی جائیدادیں وقف کر دیتے یا اپنی جائیدادوں کا ایک حصہ اپنے ملک اور قوم کی خدمت کے لئے پیش کر دیتے تو شاید یہ بلا اُن پر نازل نہ ہوتی۔اور