خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 186

خطبات محمود 186 سال 1947ء صورت میں جو بھی سچا واقعہ ہوتا گورنمنٹ اسکی تصدیق کر دیتی۔اور اگر دونوں کی باتیں غلط ہوتیں تو گورنمنٹ دونوں کی تردید کر دیتی۔اس طریق سے یقیناً افواہیں اپنا بداثر نہ پھیلا سکتیں۔لوگوں تک خبریں نہ پہنچنے دینا ناممکن بات ہے۔اور کوئی گورنمنٹ خبروں کو روک نہیں سکتی۔اس میں صرف اخبارات کی ہی شرط نہیں زبانی طور پر ہر لفظ جو کسی واقعہ کے متعلق دوسرے کے سامنے پر بیان کیا جاتا ہے دوسرا شخص اس سے ایک نتیجہ اخذ کرتا اور اسے آگے بیان کرتا ہے۔اس سے سننے والا اور آگے بیان کرتا ہے۔اور اس طرح نہایت سرعت کے ساتھ خبر میں تمام ملک میں پھیل جاتی ہیں۔گورنمنٹ اخباروں پر تو پابندیاں عائد کر سکتی ہے لیکن ان زبانی خبروں کو نہیں روک سکتی۔اور ان الفاظ کو نہیں روک سکتی جو زبانوں کے ذریعہ ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچ جاتے ہیں۔جمہوری حکومتوں کا یہ طریق ہے کہ وہ ایسی خبروں کو نہیں روکتیں بلکہ جو خبر غلط ہوتی ہے اسکی تردید کر دیتی ہیں۔اور اصل مصلحت بھی اسی بات میں ہوتی ہے کہ گورنمنٹ اخبار والوں سے کہہ دے کہ جو مرضی ہے شائع کرو لیکن اگر جھوٹی خبر شائع کی تو ہم تمہیں سزا دیں گے۔چنانچہ جب کسی کے متعلق معلوم ہو کہ اس نے جھوٹی خبر شائع کی ہے تو اس سے پوچھا جائے کہ اس نے یہ جھوٹی خبر کیوں شائع کی ہے؟ اور جب ثابت ہو جائے کہ واقع میں اس نے جھوٹی خبر شائع کی ہے تو اسے سزا دی جائے۔سزا کے لئے یہ ضروری نہیں کہ چھ ماہ یا سال یا دو سال کی قید ہی ہو بلکہ قید کی سزا دینے میں یہ نقص ہوتا ہے کہ اس طرح سزا بھگتنے سے ایک شخص قوم کا لیڈر۔اور سردار بن جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس نے قوم کی خاطر قید کاٹی۔میرے نزدیک ایسے اخبار کے لئے صرف یہی سزا کافی ہے کہ اس کے متعلق عدالت یہ فیصلہ کر دے کہ اس نے فلاں جھوٹ بولا اور پھر اس اخبار والے کو مجبور کیا جائے کہ تم اپنے اخبار میں یہ شائع کرو کہ میں نے فلاں معاملہ میں جھوٹ بولا تھا۔اصل خبر یہ تھی۔پس میرے نزدیک اخبارات کو پورا موقع دینا چاہیئے کہ وہ خبروں کو شائع کریں۔جب لوگوں کے پاس ساری خبریں پہنچ جائیں گی تو جھوٹی افواہیں فساد نہیں پھیلا سکیں گی۔سننے والے کہہ دیں گے کہ اگر ایسا ہوتا تو اخبارات میں یہ خبر کیوں شائع ہے نہ ہوتی۔اب چونکہ گورنمنٹ نے خبروں کے شائع کرنے سے روکا ہوا ہے اس لئے جب کوئی ہے افواہ پھیلتی ہے تو لوگ فوراً اس کو قبول کر لیتے ہیں اور جھوٹ سچ بن جاتا ہے۔اگر خبر میں شائع