خطبات محمود (جلد 28) — Page 185
خطبات محمود 185 سال 1947ء سرعت کے ساتھ متغیر ہو رہے ہیں۔گورنمنٹ نے اعلانوں اور خبروں کی اشاعت پر پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں لیکن لوگ آنکھوں دیکھی باتوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔اور پھر جھوٹی افواہیں تو ملک کے امن کے لئے اور بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔میرے نزدیک بجائے اس کے کہ گورنمنٹ اخباروں پر خبروں کی اشاعت کے متعلق کوئی پابندیاں عائد کرے اُسے چاہئے کہ وہ یسے موقع پر عملہ کو زیادہ بڑھا دے اور اخباروں میں جو جھوٹی خبر میں شائع ہوں وہ عملہ ان جھوٹی الان خبروں کی تردید کرتا رہے۔اب یہ حالت ہے کہ اخباروں میں تو خبریں شائع نہیں ہوتیں لیکن زبانی طور پر مختلف قسم کی خبر میں لوگوں میں پھیلنی شروع ہو جاتی ہیں۔اور بعض دفعہ تو حیرت آتی ہے کہ لوگ کس طرح ان کو سچا سمجھ لیتے ہیں۔بعض افوا ہیں مجھ تک بھی پہنچی ہیں جن کو سنتے ہی مجھے کہنا پڑا کہ یہ کبھی بچی نہیں ہو سکتیں۔لیکن بہر حال ان افواہوں کا جو بداثر ہے اُس کو دبایا نہیں جا سکتا۔حکومت طاقت کے ساتھ اخباروں پر تو پابندیاں عائد کر سکتی ہے لیکن دماغوں میں صفائی پیدا نہیں کر سکتی۔اس کا آسان طریق یہ تھا کہ بجائے اس کے کہ خبروں پر کسی قسم کی پابندی عائد کی جاتی اخبارات کو خبر میں شائع کرنے کی عام اجازت دے دی جاتی۔اور پھر جو خبر جھوٹی ہوتی بعد میں اسکی تردید شائع کرا دی جاتی۔یا اس کا ایک طریق یہ تھا کہ گورنمنٹ خود سچی خبروں کو شائع کرا دیتی اور کہہ دیتی کہ یہی خبریں ہیں۔اس کے سوا اور کوئی خبر نہیں۔اس طرح گورنمنٹ بھی مجبوری ہوتی کہ تمام سچی خبریں شائع کرتی کیونکہ اگر کوئی سچی خبر رہ جاتی تو گورنمنٹ جھوٹی ٹھہرتی۔اس لی طرح بھی جھوٹی افواہوں پر کنٹرول ہو سکتا تھا۔گورنمنٹ ہر روز یہ اعلان کر دیتی کہ آج فلاں محلہ میں یہ واقعہ ہوا ہے اور فلاں میں یہ اس طرح تمام واقعات بیان کر دیئے جاتے اور کہہ دیا جاتا کہ اس کے سوا سب خبریں جھوٹی ہیں۔اگر اس طرح کیا جاتا تب بھی لوگ مطمئن ہو جاتے اور سمجھ لیتے کہ اگر کوئی اور سچی خبر ہوتی تو گورنمنٹ اسے کیوں نہ بیان کرتی۔اور اگر پہلے کی طرح ہی اخباروں میں واقعات چھپتے رہتے تو پھر بھی نقص واقع نہ ہوتا۔کیونکہ جو بات مسلمانوں کی طرف جھوٹی منسوب کی جاتی مسلمان اس کی تردید کر دیتے اور جو بات ہندوؤں کی طرف جھوٹی منسوب کی جاتی ہندو اُسکی تردید کر دیتے۔اور یا پھر تیسرا طریق یہ تھا کہ واقعات اور خبریں تو سابق اخبارات میں شائع ہوتی رہتیں مگر ہندو اور مسلمان اخبارات کے متضاد بیانات کی