خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 179

خطبات محمود سے وعد۔179 سال 1947ء ے نہیں لیے۔یا جماعت کے افراد کی سستی ہے۔یوں تو اگر کسی جماعت کے کارکن غفلت سے کام لینے والے ہوں تو ہو سکتا ہے کہ وہ پانچ کے وعدے بھجوا دیں اور باقی لوگوں کے متعلق بغیر نام کی تصریح کے یہ لکھ دیں کہ وہ چندہ نہیں دیتے۔حالانکہ اصل حقیقت یہ ہوگی کہ وہ وعدہ لینے کے لئے ان کے پاس گئے ہی نہیں ہو نگے۔پس چونکہ اس طرح کا رکن اپنی غفلت پر پردہ ڈال سکتے ہیں اس لئے ہماری طرف سے یہ ہدایت ہے کہ نہ صرف وعدہ دینے والوں کے نام بھیجے جائیں بلکہ جماعت کی نام بنام لسٹ دیکر یہ بھی تصریح کی جائے کہ کس کس نے اس تحریک میں شامل ہونے سے انکار کیا ہے؟ اِس طرح کا رکنوں کی ہوشیاری اور غفلت کا بھی پتہ لگ جائیگا اور لسٹیں بھی صحیح طور پر مکمل ہوں گی۔مثلاً جب وہ دیکھیں گے کہ فلاں شخص چندہ نہیں دیتا تو بعد میں تحقیق کر کے معلوم کیا جا سکے گا کہ اصل حقیقت کیا تھی۔پس صرف یہی کافی نہیں کہ جماعتیں مثبت لسٹیں بھجوائیں بلکہ وہ منفی کے پہلو کا بھی خاص طور پر خیال رکھیں اور جب بھی وہ کوئی لسٹ بھیجیں ان کے لئے یہ ضروری ہوگا کہ وہ اس میں لکھیں کہ ان ناموں کے سوا ہماری یہاں کی جماعت میں اور کوئی احمدی نہیں۔یہ کہ فلاں فلاں احمدی اور ہیں جو حصہ لینے۔انکاری ہیں۔اور اگر کوئی آدمی رہ جائیگا تو یقیناً اس جماعت کے افسر اس بات کے ذمہ دار ہوں گے کہ وہ جواب دیں کہ آیا وہ اُس شخص کے پاس نہیں پہنچے یا پہنچنے کے باوجود اس نے شامل ہونے سے انکار کیا تھا۔اور اگر انکار کیا تھا تو پھر بھی اُس کا نام انہوں نے لسٹ میں کیوں درج نہ کیا۔اگر تو کارکن جماعت کے کسی فرد یا افراد کے پاس نہیں پہنچے ہوں گے تو کارکنوں کا جرم ثابت ہو جائیگا اور وہ لوگ بری ہو جائیں گے۔اور اگر کارکن تو ان کے پاس پہنچے ہوں گے لیکن انہوں ނ نے اس تحریک میں حصہ لینے سے انکار کیا ہو گا تو کارکن بری الذمہ سمجھے جائیں گے اور وہ مجرم۔آج 16 تاریخ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ میعاد میں سے اب صرف پندرہ دن باقی ہیں۔اور پندرہ دنوں کی میعاد بہت تھوڑی ہے۔بعض جماعتیں جن میں پچاس پچاس، سوسو ، ڈیڑھ ڈیڑھ سو اور دو دو سو افراد ہوتے ہیں اُن میں سے ہر ایک کے پاس جانا اور اُن سے وعدہ لینا بہت بڑا وقت چاہتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس بارہ میں ابھی ہماری جماعت کے اندر اتنی بیداری پیدا نہیں ہوئی کہ اُسے بار بار کی یاد دہانیوں کی ضرورت نہ ہو۔پس میں اس خطبہ کے ذریعہ ایک بار