خطبات محمود (جلد 28) — Page 178
خطبات محمود 178 سال 1947ء سارے سال کی کمائی اور سارے سال کی خوراک اس سے وابستہ ہوتی ہے اور اس سے غفلت اُس کے لئے اور اُس کے سارے خاندان کے لئے ہلاکت کا موجب ہوتی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ منظم رنگ میں کام کرنے والے ایسے مصروفیت کے زمانہ میں بھی کچھ نہ کچھ وقت ہنگامی کاموں کے لئے نکال لیتے ہیں۔لیکن ہمارا ملک ایسا منظم کہاں ہے اور ہمارے ملک میں وقت کی پابندی کرنے والے کتنے لوگ ہیں۔ایک تربیت یافتہ قوم یا ایک تعلیم یافتہ قوم کے لوگوں سے تو یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے کاموں کی ایسے رنگ میں تقسیم کریں کہ باوجو د شدید مصروفیت کے پنے وہ بعض دوسرے کاموں کے لئے بھی اپنا وقت نکال سکیں۔لیکن ہمارے ملک کے لوگ اوقات کی ایسے رنگ میں تقسیم نہیں کرتے کہ وہ عمدگی سے کام بھی کر سکیں اور کچھ وقت اور کاموں کے لئے بھی بچالیں۔اگر وہ ایسا کریں تو یہ امر اُن کے لئے ممکن ہے۔مگر وہ اپنی سابقہ عادات و رسوم کی وجہ سے ان دنوں ایسے مصروف ہوتے ہیں کہ انکے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہوتا کہ وہ اسے کسی اور کام پر خرچ کر سکیں۔اس لئے اگر زمیندار جماعتیں ایک حد تک کوتا ہی کریں تو یقیناً وہ اس حا تک کو تا ہی کی مرتکب نہیں ہونگی کہ وہ ملامت کی مستحق سمجھی جاسکیں۔مگر شہری جماعتوں کے لئے ایسی کوئی مجبوری نہیں ہے۔سوائے چند شہروں کے کہ جن میں کرفیو نافذ ہے باقی تمام شہر اور ی قصبات آزاد ہیں اور سب لوگ آزادی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔پس یہ بات نہایت ہی قابلِ افسوس ہے کہ شہری جماعتوں کی طرف سے ابھی بہت کم وعدے وصول ہوئے ہیں۔بلکہ ابھی تک دہلی اور لاہور کی جماعتوں کی لسٹیں بھی پوری طرح نہیں پہنچیں۔میں نے پرسوں دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ ان دونوں جماعتوں کی طرف سے نہایت نامکمل فہرستیں آئی ہیں اور شاید نصف سے بھی زیادہ آدمی ابھی ایسے باقی ہیں جن سے تا حال وعدے نہیں لیے گئے۔اور شاید وہ نصف بلکہ اس سے بھی کم وعدے بھیج کر ہی تسلی پاچکے ہیں کہ ہم نے اپنے وعدوں کی لسٹیں بجھوا دی ہیں۔جیسا کہ میں نے بار بار اعلان کیا ہے ہماری طرف سے صرف یہی شرط نہیں کہ مثبت وعد۔بھجوائے جائیں بلکہ یہ بھی شرط ہے کہ لسٹوں میں اس بات کی بھی تصریح کی جائے کہ فلاں فلاں شخص نے وعدہ نہیں کیا اور اس تحریک میں شامل ہونے سے انکار کرتا ہے تا کہ ہمیں اس بات کا علم ہو سکے کہ کمزوری ان کے افسروں کی ہے جو ان کے پاس پہنچتے نہیں یا کارکنوں کی ہے جنہوں نے