خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 176

خطبات محمود 176 سال 1947ء کر دیں۔یہ ایک خوشکن بات ہے۔مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے میں نے ایسے وعدے قبول نہیں کئے بلکہ اُن کے اخلاص اور قابلِ رشک ایثار کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں یہی لکھوایا ہے کہ اس وقت جائیداد کا ایک فیصدی مانگا گیا ہے آپ لوگ بھی اتنا ہی پیش کریں۔اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہی سب کام ہیں اور اِس وقت تک اللہ تعالیٰ ہی ہمارے سب کام کرتا چلا آیا ہے اور ہمیں آئندہ بھی اُسی کے فضل و کرم کی امید ہے۔پس ہمیں اِن دنوں خصوصیت کے ساتھ دعائیں کرنی چاہئیں کہ جو فرض اللہ تعالیٰ نے ہم پر عائد کیا ہے اُس کی بجا آوری کی ہمیں توفیق ملے۔اور اگر کوئی شخص اپنے فرض کو ادا کر چکا ہے تو اُسے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرنی چاہیئے کہ اس کے دوسرے بھائیوں کو بھی اللہ تعالی اس امتحان میں فیل ہونے سے بچائے۔اور اگر کسی کے اندر کچھ کمزوری پائی جاتی ہے تو وہ دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کی کمزوری کو دور کرے اور اسے بھی سابقین میں شامل ہونے کی توفیق بخشے۔اللہ تعالیٰ کی قدرتیں نہایت وسیع ہیں اور اُس کے فضل عظیم الشان ہیں۔اس وقت ایک نہایت ہی نازک دور ہندوستان پر آیا ہوا ہے جس کا علاج صرف خدا تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے۔بظاہر انسان کام کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن درحقیقت خدا کی تقدیر ان کے پیچھے کام کر رہی ہے۔پس ہمیں اللہ تعالیٰ کے حضور جھک کر دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی تقدیر کو ایسے رنگ میں جاری کرے کہ وہ اسلام اور احمدیت کے لئے مفید ہو اور آئندہ دنیا میں امن قائم کرنے کا موجب ہو۔اور یہ کہ ہمارے ملک کے اندر جو فتنہ اور فساد پایا جاتا ہے اللہ تعالیٰ اسکو دُور کرے۔اور ہر قوم کو سمجھ عطا کرے کہ وہ آپس کے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر صلح اور امن اور آشتی کے طریق کو قبول کرے اور نہ صرف ہمارا ملک صلح اور آشتی کے طریقوں کو اختیار کرے بلکہ خدا کے فضل سے ہمارا ملک ساری دنیا میں ایک اہم اور نیک تغیر پیدا کرنے کا موجب بن جائے۔اللهم امين (الفضل 15 رمئی 1947 ء )