خطبات محمود (جلد 28) — Page 175
خطبات محمود 175 سال 1947ء۔لٹیں بھی ہر جماعت کی طرف سے مجھے پہنچنی چاہئیں۔وعدے زیادہ تر میرے پاس ہی آتے ہیں اور یہی طریق زیادہ مناسب ہے کیونکہ اس طرح مجھے ایسے لوگوں کا علم بھی ہوتا رہتا ہے اور ان کے لئے دعا کی تحریک بھی ہوتی رہتی ہے۔تحریک جدید کے وعدے بھی میرے پاس آتے ہیں اور اس طرح مجھے وقت پر ہر بات کا علم ہو جاتا ہے۔اور اگر کوئی نقص دور کرنے کے قابل ہو تو اُس کو دور کر دیا جاتا ہے۔اسی طریق کے مطابق جو جماعتیں اپنے وعدوں کی لسٹیں مکمل کریں وہ اول میرے پاس بھجوا دیں۔چونکہ آجکل ڈاک کا انتظام خراب ہے اس لئے اگر بعض جماعتیں اپنے ں کی لسٹیں بھجوا چکی ہوں۔لیکن اُن کو وعدوں کے پہنچنے کی اطلاع نہ ملی ہو تو انہیں سمجھ لینا چاہیئے کہ اُن کے وعدے نہیں پہنچے۔ایسی صورت میں دوبارہ انہیں وعدوں کی لسٹیں بھجوانی چاہئیں۔ہر جماعت کولسٹ بھجواتے ہوئے اُس کی ایک نقل اپنے پاس رکھنی چاہیئے تا کہ اگر پہلی فہرست ضائع ہو جائے تو دوبارہ بغیر تاخیر کے نقل کی نقل قادیان بھجوائی جا سکے۔اس کے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ جو لوگ اپنی ایک ماہ کی آمد یا جائیداد کا ایک فیصدی دینے والے ہوں اُن کے وعدوں کی لسٹیں الگ اور جو نصف ماہ کی آمد یا اپنی جائیدادوں کا 1/2 فیصدی دینے والے ہوں اُن کی لسٹیں الگ ہوں تا کہ یہ دونوں قسم کی لسٹیں آپس میں مل نہ جائیں اور ایک کا نام دوسرے رجسٹر میں درج نہ ہو جائے۔میں امید کرتا ہوں کہ جماعتیں اپنے اخلاص اور ایثار اور قربانی سے اس عظیم الشان امتحان میں پہلے سے بھی زیادہ کامیاب ثابت ہونگی۔میں دیکھتا ہوں کہ بعض دوستوں نے ایسی عظیم الشان قربانیاں پیش کی ہیں کہ انہیں دیکھ کر رشک آتا ہے۔قربانی میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کسی نے کیا دیا ہے بلکہ دیکھنے والی بات یہ ہوتی ہے کہ اس نے اپنی طاقت کے لحاظ سے قربانی میں کس قدر حصہ لیا ہے۔بعض ایسے لوگ جن پر صرف دس روپے چندہ عائد ہوتا تھا انہوں نے چالیس روپیہ چندہ دیا ہے اور بعض کے وعدے تو اتنے زیادہ تھے کہ مجھے ان کے وعدوں کو ر ڈ کرنا پڑا اور میں نے ان سے کہا کہ جو مطالبہ ساری جماعت سے کیا گیا ہے اُسی مطالبہ کے مطابق آپ لوگ بھی قربانی ہے کریں اُس سے زیادہ نہیں۔ورنہ بعض نے تو اپنی ساری کی ساری جائیدادیں پیش کر دی تھیں اور کہا تھا کہ جب ہم نے ساری جائیداد دینے کا وعدہ کیا ہوا ہے تو ہم ساری جائیداد کیوں نہ پیش