خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 154

154 سال 1947ء خطبات محمود قیمت رکھیں تو یہ جائیداد چار کروڑ روپے کی بنتی ہے۔اور حقیقت میں قیمت کا یہ اندازہ بالکل غلط ہے کیونکہ قادیان کے اردگرد کے دیہات میں چھ سو سے لے کر بارہ سو روپے تک فی ایکٹر زمین بکتی ہے۔اسی طرح مربعوں کی قیمتیں بھی آجکل بہت بڑھی ہوئی ہیں۔لیکن اگر اوسط قیمت فی ایکٹر پانچ سو روپیہ ہی رکھی جائے تو صرف پنجاب کی زمینیں ہی چار کروڑ کی بنتی ہیں اور اس کا 1/100 چارلاکھ بنتا ہے۔لیکن مجھے افسوس ہے کہ زمیندارہ جماعتوں نے اس طرف بالکل توجہ نہیں کی۔سوائے مدرسہ چٹھہ کی جماعت کے۔مدرسہ چٹھہ ضلع گوجرانوالہ میں بہت چھوٹی سی جماعت ہے اور اس کو جماعتی لحاظ سے کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں لیکن اس چھوٹی سی جماعت نے - 1648 روپے کا وعدہ بھجوایا ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی جائیدادوں کی قیمت ایک لاکھ چونسٹھ ہزار آٹھ سو روپیہ ہے۔اس چھوٹی سی جماعت نے اپنے وعدے پیش کرنے میں بہت اچھا نمونہ پیش کیا ہے۔باقی پندرہ ہیں زمیندار اور ہیں جنہوں نے متفرق جگہوں سے اپنے وعدے بھجوائے ہیں لیکن بیشتر حصہ جماعت کا ایسا ہے جس نے اس تحریک کی طرف توجہ نہیں کی۔مثلاً ضلع گورداسپور میں قادیان کی جماعت کے علاوہ چالیس ہزار کے قریب احمدی افراد ہیں۔اور ان میں سے اکثر زمیندار ہیں۔لیکن ضلع گورداسپور میں سے کسی ایک جماعت کا وعدہ بھی نہیں آیا ہے۔پھر اس کے بعد بڑی جماعت ضلع سیالکوٹ کی ہے۔اس میں سے بھی کسی ایک جماعت نے بھی اپنے وعدے نہیں بھجوائے۔پھر اس کے بعد بڑی جماعت ضلع گجرات کی ہے۔وہاں سے بھی کسی ایک جماعت نے بھی اپنے وعدے نہیں بھجوائے۔پھر اس کے بعد لائکپور، سرگودھا، منٹگمری، ملتان اور شیخو پورہ کی جماعتیں ہیں۔ان اضلاع میں سے بھی کسی ایک جماعت نے بھی اپنے وعدے نہیں بھجوائے۔لائکپور سے ایک دیہاتی جماعت نے وعدہ بھجوایا ہے۔مگر وہ وعدے درست معلوم نہیں ہوتے۔کیونکہ ساری جماعت کی جائیداد دس ہزار لکھی ہے۔حالانکہ ایک ایک مربعہ کی قیمت ہیں سے پچاس ہزار تک ان دنوں ہے۔گوجرانوالہ میں سے بھی مدرسہ چٹھہ کی جماعت کے سوا اور کسی جماعت کی طرف سے وعدوں کی اطلاع نہیں آئی۔گویا ان نوضلعوں میں سے صرف ایک جماعت کا وعدہ موصول ہوا ہے۔حالانکہ پنجاب میں سو ڈیڑھ سو اس خطبہ کے بعد گلانوالی ضلع گورداسپور کی جماعت کا اور ایک سیالکوٹ کی جماعت کا وعدہ آیا ہے۔