خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 140

خطبات محمود 140 سال 1947ء برداشت نہیں کر سکتا اور مر جاتا ہے۔چنانچہ انہوں نے اسی طرح کیا۔ہاتھی نے سونڈ بڑھا کر حملہ آور کو پیٹھ پر سے پکڑ لیا اور زور سے اٹھا کر زمین پر دے مارا اور قریب تھا کہ وہ اس پر اپنے گھٹنے رکھ دیتا کہ دوسرے ساتھیوں نے دائیں بائیں سے ہاتھی پر بے تحاشا تلواروں کے حملے کرنے شروع کر دئیے۔اس پر اس نے سامنے کے آدمی کو چھوڑ کر دائیں بائیں والے آدمیوں میں سے ایک کو پکڑ لیا اور اسے بھی زور سے زمین پر دے مارا۔مگر پیشتر اس کے کہ وہ اس کو اپنے گھٹنے تلے کچل دیتا دوسرے ساتھیوں نے اسے اپنی طرف متوجہ کر لیا۔اسی طرح حملہ ہوتا چلا گیا۔کبھی ہاتھی ایک کو اٹھا کر گرا تا کبھی دوسرے کو مگر وہ لوگ نڈر ہو کر حملہ کرتے چلے گئے اور ہاتھی بُری طرح زخمی ہو کر پیچھے کو بھا گا۔جب سب سے بڑا ہاتھی بھاگا تو باقی ہاتھی بھی اس کے پیچھے بھاگ کھڑے ہوئے اور وہی ہاتھی جو کہ فوج کے بچاؤ کا موجب تھے فوج کی تباہی کا موجب ہوئے کیونکہ وہ اپنی ہی پیادہ فوجوں کو پاؤں تلے روندتے چلے جاتے تھے۔انکی یہ قربانی بظاہر چھوٹی نظر آتی ہے مگر اس میں جو بے جگری نظر آتی ہے وہ اپنی مثال آپ ہی ہے۔حضرت خنساء کے متعلق لکھا ہے کہ ادھر تو انہوں نے اپنے بیٹے مرنے کے لئے میدانِ جنگ میں بھیج دیئے اُدھر ماں کی مامتا جوش میں آئی اور وہیں جنگل میں اللہ تعالیٰ کے حضور سجدے میں گر گئیں اور اپنے بیٹوں کے لئے دعا مانگنے لگیں کہ الہی ! تو جانتا ہے میں نے اپنی جوانی کس طرح برباد کی۔میری ساری عمر کی کمائی یہی بچے ہیں۔میں نے آج ان کو اسلام کے لئے قربان ہونے کے لئے بھیج دیا ہے اُن کا فرض یہی تھا اور میرا فرض بھی یہی تھا لیکن تجھ کو طاقت ہے کہ تو اسلام کو بھی فتح دے اور میرے بچے بھی زندہ واپس آجائیں۔اللہ تعالیٰ نے اسلام کو فتح دی اور ان کے بچے بھی زندہ واپس آگئے۔میں اس واقعہ کو بتا کر آپ سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ نازک وقتوں میں انتہائی قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ہر ایک چیز کا ایک درجہ ہوتا ہے اور ہر ایک درجے کے لئے علیحدہ علیحدہ چیز مناسب ہوتی ہے۔اگر ایک دوپٹے کو آگ لگ جائے تو اسے پانی کے ایک لوٹے سے بجھا لیتے ہیں۔اور اگر کسی چٹائی یا دری کو آگ لگ جائے تو اس کے بجھانے کے لئے زیادہ پانی اور زیادہ ہے کوشش کی ضرورت ہوتی ہے۔اور اگر کسی کمرے کو آگ لگ جائے تو اس کے بجھانے کے لئے اور بھی زیادہ قربانی اور کوشش کی ضرورت ہوتی ہے۔اور اگر کسی گھر کو آگ لگ جائے تو اس کے