خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 139

خطبات محمود 139 سال 1947ء اور داؤ پیچ کر کے جان بچانے کی فکر کی جائے بلکہ کل سب کو فنا ہو جانا چاہیئے۔سب مسلمانوں نے بہادری کے عہد کئے اور مختلف پارٹیاں بنائیں کہ اس طرح ہم دشمن کا مقابلہ کریں گے۔اس جنگ میں حضرت خنساء بھی شامل تھیں۔ان کے متعلق آتا ہے کہ وہ اپنے بیٹوں کو لے کر الگ ہو گئیں اور اپنے بیٹوں سے کہا میرے بیٹو! تم نے میری زندگی دیکھی ہے۔میں نے تمہارے لئے ساری جوانی برباد کر دی اور دوسری شادی نہیں کی۔تم نے بھی سن لیا ہو گا کہ تمہارے باپ کا سلوک کی میرے ساتھ کیسا تھا۔اس نے اپنی جائیداد اور میری جائیداد بھی شراب اور جوئے میں تباہ کر دی۔با وجود ایسے ذلیل سلوک کے میں نے اس کی عزت کو قائم رکھا اور اپنی ساری جوانی لٹا کر تم کو پالا۔کیا یہ ٹھیک ہے؟ بیٹوں نے کہا ہاں ٹھیک ہے۔حضرت خنساء نے کہا میں نے تمہاری کتنی خدمات کیں اور کس طرح مصیبتیں اٹھا کر تمہیں پالا۔ان خدمات کے عوض میں تم سے ایک مطالبہ کرتی ہوں کہ آج اسلام پر بہت نازک وقت آیا ہے تم لڑائی میں جارہے ہو۔میں تم سے یہ کہنا چاہتی ہوں کہ یا تو تم فاتح ہو کر لوٹو اور یا پھر وہیں شہید ہو جاؤ۔میں تم کو زندہ نہ دیکھوں۔اگر مسلمانوں کو شکست ہوا اور تم زندہ رہے تو میں قیامت کے دن تمہیں اپنی یہ قربانی نہ بخشوں گی۔لڑکوں نے اپنی ماں سے وعدہ کیا کہ کوٹیں گے تو فاتح ہو کر لوٹیں گے۔نہیں تو میدانِ جنگ میں ہماری لاشیں دیکھ لینا۔اور پھر انہوں نے اس وعدہ کو پورا بھی کیا۔سب سے بڑا ہاتھی جو کہ ہاتھیوں کے آگے بڑھ کر حملہ کرتا تھا اُس پر حملہ کرنے کیلئے ایک عرب سردار نے ان لڑکوں سے کہا کہ تم میرے ساتھ مل کر اس ہاتھی پر حملہ کر دو۔اُس زمانہ میں بندوق اور توپ تو تھی نہیں تلوار سے ہی لڑائی ہوتی اور تلوار سے لڑنے والے کو دوسرے کے بالمقابل جانا پڑتا ہے۔اس سردار نے کہا میں ہاتھی پر سامنے کی طرف سے حملہ کروں گا اور تم دائیں بائیں پہلوؤں پر رہنا۔میں ہاتھی پر حملہ کرونگا تو وہ مجھے اپنی سونڈ میں لے کر اٹھا کر مارے گا۔تو تم اس اثناء میں اس پر دائیں اور بائیں سے حملہ کر دینا۔وہ مجھے چھوڑ دے گا اور دوسری طرف متوجہ ہو گا۔اس طرح ایک وقت میں ہم تین طرف سے اُس پر حملہ کریں گے اور ہو سکتا ہے کہ ہمارے حملہ کی وجہ سے ہاتھی بھاگ جائے یا تی زخمی ہو جائے۔ہاتھی کا قاعدہ ہوتا ہے کہ وہ حملہ کے وقت آدمی کو سونڈ سے اٹھا کر زمین پر مارتا ہے اور گھٹنوں کے نیچے لیکر اوپر چڑھ جاتا ہے۔اور ہاتھی کا بوجھ سینکڑوں من ہوتا ہے انسان اُس کو