خطبات محمود (جلد 28) — Page 116
خطبات محمود 116 سال 1947ء آخر تک احمدیت پر قائم رہے آپ ان کا جنازہ پڑھا ئیں۔میں نے کہا یہ ہمارے اصول کے خلاف ہے۔چونکہ وہ مقاطعہ کی حالت میں فوت ہوئے ہیں اس لئے میں ان کا جنازہ نہیں پڑھا سکتا۔وہ لڑکا روتا ہوا چلا گیا اور پھر کچھ عرصہ کے بعد وہ قادیان سے بھی باہر چلا گیا۔بعض لوگ تو جان بوجھ کر گناہ کرتے ہیں لیکن بعض لوگوں کا گناہ بھی نیک نیتی پر مبنی ہوتا ہے۔اور میاں عبد اللہ خان صاحب کی کیفیت بھی یہی تھی کہ انہوں نے بھی یہ مجرم نیک نیتی سے کیا تھا۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ مرتے دم تک جماعت میں شامل ہونے کا اعلان کرتے رہے اور جماعت کے خلاف نہ ہوئے۔ورنہ اکثر لوگوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ جب اُن کو جماعت کی طرف سے کوئی سزا دی جاتی ہے تو بجائے اس کے کہ وہ تو بہ و استغفار کریں جماعت کے خلاف ہو جاتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہم تمہاری پروا نہیں کرتے۔لیکن ان کے دل میں اخلاص تھا اور انہوں نے اسی نیت سے لڑکی کا رشتہ دیا تھا کہ میں احمدیت کے لئے ترقی کا راستہ کھولنے لگا ہوں۔اب اللہ تعالیٰ نے ان کی اس خواہش کو پورا کیا ہے۔وہ لڑکا فوج میں گیا اور ہوتے ہوتے کپتان ہو گیا۔اور اب جو میں سندھ گیا تو وہ کپتان صاحب مجھے حیدر آباد کے اسٹیشن پر ملنے کے لئے آئے اور انہیں احمدیت سے بہت حد تک عقیدت ہو چکی تھی۔وہ اس طرح کہ دو چار مہینے ہوئے حیدر آباد میں ایک احمدی عورت ان کے گھر گئی۔وہ عورت لڑکیوں کو پڑھاتی تھی۔اس نے ان کے گھر جا کر کہا کہ میں بچوں کو اردو پڑھا سکتی ہوں۔اگر آپ بچوں کو اردو پڑھوانا چاہیں تو میں انہیں پڑھا دیا کروں؟ باتوں باتوں میں اس کپتان صاحب کی بیوی کو یہ معلوم ہو گیا کہ یہ عورت احمدی ہے۔اس کے دل میں اس بات کا احساس تو پہلے سے موجود تھا کہ میں ایک احمدی باپ کی لڑکی ہوں۔چنانچہ اس میل جول سے کپتان صاحب کی بیوی کو احمدیت سے بہت زیادہ محبت ہو گئی۔اور جب کپتان صاحب کو معلوم ہوا کہ یہاں بھی احمدی ہیں تو وہ بھی احمدیوں سے ملنے لگے۔اللہ تعالیٰ نے یہ بھی سامان کر دیا کہ وہاں کچھ نوجوان احمدی فوج میں بھی تھے۔نتیجہ یہ ہوا کہ بہت حد تک ان کی طبیعت احمدیت کے متعلق مطمئن ہو گئی۔اور اب کراچی جاتے وقت حیدر آباد کے اسٹیشن پر وہ مجھے ملنے کے لئے آئے تو انہوں نے کہا کہ میں کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں۔میں نے اُن سے کہا کہ اب تو وقت کم ہے۔ہم فلاں تاریخ کو کراچی سے واپس آئیں گے آپ اُس دن