خطبات محمود (جلد 28) — Page 115
خطبات محمود 115 سال 1947ء سوار ہوئے۔جب ریل اُس اسٹیشن پر جا کر کھڑی ہوئی جہاں ہم نے انتر نا تھا تو ہم نے دیکھا کہ سیٹھ صاحب بھی وہاں کھڑے ہیں۔جب ہم اُترے تو انہوں نے آتے ہی اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمُ کہا اور کہا چلئے کھانا تیار ہے۔ہم حیران ہوئے کہ ان کو ہمارے پروگرام کا کس طرح علم ہو گیا۔اس وی کے بعد مجھے جب بھی بمبئی جانے کا اتفاق ہوا سیٹھ صاحب بھی بمبئی پہنچ جاتے اور قیام کے دوران میں میرے ساتھ رہتے۔اس عرصے میں ان کی بیویوں کے میری بیویوں سے اور ان کی بچیوں کے میری بچیوں سے اور میرے بچوں کے ان کے بچوں سے تعلقات ہو گئے اور آہستہ آہستہ یہ تعلقات ایک گھر کی مانند ہو گئے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے بچوں اور بچیوں میں بھی بہت اخلاص ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو دین کی خدمت کرنے کی توفیق دے رہا ہے۔ان کے بڑے لڑکے محمد اعظم صاحب سیکرٹری مال ہیں اور جماعت کے معیار کو بلند کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔دوسرے بیٹے معین الدین صاحب ہیں وہ حیدر آباد میں خدام الاحمدیہ کے قائد ہیں اور تیسرا بچہ ابھی چھوٹا ہے اور تعلیم حاصل کر رہا ہے۔اور ان کی لڑکیوں کے میری بیوی امۃ الحی مرحومہ سے بھی بہت تعلقات تھے۔تیسرا جنازہ میاں عبداللہ خاں صاحب کو ہاٹ کا ہے۔ان کو فوت ہوئے سالہا سال گزر گئے ہیں۔ان کے جنازے کے متعلق جو تشریح ہے اس میں میں اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ میری خلافت میں یہ پہلی مثال ہے کہ میں ایک شخص کا اُس کی موت کے دس پندرہ سال کے بعد جنازہ پڑھا رہا ہوں اور پھر ایسے شخص کا جنازہ پڑھا رہا ہوں جو کہ مقاطعہ کی حالت میں فوت ہوئے۔میاں عبد اللہ خان صاحب نے اپنی لڑکی اپنے ایک غیر احمدی رشتہ دار سے بیاہ دی۔اور اس اصرار سے بیاہی کہ ہمارے ہاں تبلیغ مؤثر ثابت نہیں ہو رہی اور میں چاہتا ہوں اس طرح لڑکا احمدیت کے قریب ہو جائے گا اور احمدیت کو قبول کر لے گا۔یہ قدرتی بات ہے ہم نے ان کے اس طریق کو بہانہ سمجھا اور ان کے مقاطعہ کا اعلان کر دیا۔ان کا بچہ یہاں مدرسہ احمدیہ میں پڑھتا تھا اور وہ میر محمد اسحاق صاحب کے زیر احسان تھا اور اب تک بھی وہ میر صاحب کی بیوی کو اماں جی کہہ کر پکارتا ہے۔جب اس کے والد فوت ہوئے تو وہ میرے پاس آیا اور اس نے کہا کہ میرے والد صاحب نے غیر احمدیوں کو لڑ کی دی تھی جس پر اُن کا مقاطعہ ہوا تھا لیکن و