خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 84

*1946 84 خطبات محمود ایک ضلع یا دو ضلعوں میں جمع کر دی جائے تو الیکشنوں پر ہمارا کچھ بھی خرچ نہ آئے کیونکہ کثرت احمدی ووٹروں کی ہو گی۔جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ ہماری جماعت کے چالیس پچاس ہزار کے درمیان ووٹر ہیں۔اس حلقہ میں چودھری فتح محمد صاحب کے ووٹ صرف چھ ہزار دوسو تھے۔اگر تین ممبروں کے سوال کو اڑا دیا جائے تو چار ہزار دو سو ووٹ میں سے جو مسلم لیگ کو ملے اگر آدھے بھی دوسروں کو مل جاتے اور آدھے چودھری فتح محمد صاحب کو تو پھر یہ آٹھ ہزار تین سو ووٹ لے کر جیت جاتے یا ہمارے حساب سے آٹھ ہزار پانچ سو ووٹ لے کر۔کیونکہ ہمارے دو سو ووٹ غائب ہو گئے ہیں یا دوسرے فریق کے حساب میں گنے گئے ہیں اور یہی درست معلوم ہوتا ہے۔کیونکہ جس وقت ووٹ گنے جاتے ہیں اس وقت فریقین کو ہاتھ نہیں لگانے دیا جاتا سرکاری افسر گنا کرتے ہیں۔اس لئے ہمیں شبہ ہے کہ ہمارے دو سو ووٹ دوسرے کے ووٹوں میں شمار ہو گئے ہیں یا کر لئے گئے ہیں۔بہر حال ہمارے حساب سے چودھری صاحب آٹھ ہزار پانچ سوپر جیت جاتے اور ان کے حساب سے آٹھ ہزار تین سوپر۔گورداسپور میں تو تناسب اس سے بھی کم ٹھہرتا ہے کیونکہ وہاں ووٹوں کی تعداد کم ہے۔وہاں پانچ ہزار ووٹ والا جیت جاتا ہے۔زیادہ سے زیادہ چھ ہزار فرض کر لو۔ہماری جماعت کے چونکہ پینتالیس پچاس ہزار ووٹ ہیں اس حساب سے ہمیں چھ سیٹیں آپ ہی آپ آجاتی ہیں لیکن بوجہ اقلیت ہونے کے اور سارے پنجاب میں پھیلے ہونے کے ہم اپنے حقوق نہیں لے سکتے ورنہ حقوق کے لحاظ سے ہمیں سیٹیں ملنی چاہئیں لیکن باوجود بڑی کوشش کے ہم صرف ایک سیٹ جیت چکے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ہمارے باہر کے تمام ووٹ پھیلے ہوئے ہیں اس لئے ہماری جماعت دوسری جگہوں پر جیت نہیں سکتی۔اگر نوے سیٹوں میں ہمارے دو دو ہزار ووٹ پھیلے ہوئے ہوں تو دو ہزار والے کسی صورت میں بھی جیت نہیں سکتے حالانکہ اس طرح ایک لاکھ اسی ہزار ووٹ بنتا ہے لیکن اتنی بڑی تعداد ہو جانے پر بھی ہم ایک سیٹ بھی نہیں لے سکیں گے۔اس وقت ہمارے ووٹروں کی تعداد پچاس ہزار ہے۔اس کو سارے پنجاب میں تقسیم کریں تو ایک ایک سیٹ کے لئے صرف پانچ پانچ سو ووٹ بنتے ہیں اور پانچ سو ووٹوں سے کون جیت سکتا ہے۔پس اگر ہم نے زیادہ ووٹ حاصل کرنے ہیں تو اس کے لئے ہمیں لازماً بڑی جدوجہد کی ضرورت ہو گی اور اس جد وجہد کے چھ