خطبات محمود (جلد 27) — Page 70
*1946 70 خطبات محمود میں سے نہیں تھے۔( میرا یہ ذکر الیکشن سے پہلے کی رپورٹ پر تھا۔بعد میں انہوں نے جیسا کہ بتایا گیا ہے اچھا کام کیا ہے) بعض اور جماعتوں نے بھی بہت عمدہ کام کیا ہے لیکن اس وقت مجھے اُن کے نام یاد نہیں رہے۔فَجَزَاهُمُ اللهُ اَحْسَنَ الْجَزَاء ان سب نے اس بات کا ثبوت دے دیا ہے کہ جب مومن کام کرنے پر آتا ہے تو وہ ہر قسم کے عواقب سے نڈر ہو کر کام کرتا ہے۔ونجواں میں مخالفین کی شرارت پر پولیس نے احمدیوں کے ووٹوں کو روکنے کی کوشش کی۔مگر نوجوان مقابلہ کے لئے کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ ہم نے تو اپنے آدمی لے کر جانے ہیں خواہ پولیس دخل اندازی ہی کیوں نہ کرے۔پولیس نے ایک دو ووٹروں کو روکے رکھا اور باقیوں کو چھوڑ دیا لیکن جب ہمارے دوسرے آدمی پہنچ گئے تو باقیوں کو بھی انہوں نے چھوڑ دیا۔بہر حال جماعت نے نہایت اعلیٰ درجہ کے اخلاص کا نمونہ دکھایا ہے۔جہاں تک الیکشن کروانے کا سوال تھا جماعت نے اپنی قربانی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور بے مثال قربانی پیش کر کے جماعت کی ترقی کے لئے ایک راستہ کھول دیا ہے۔اب ہمارے سامنے ایک دوسرا مرحلہ ہے اور وہ یہ کہ چودھری صاحب وہاں جا کر ایسے رنگ میں کام کریں جو احمدیت کی شان کے مطابق ہو۔ہمارے ملک کی یہ خاص مصیبت ہے کہ لوگ پارٹی بازیوں میں پڑے ہوئے ہیں۔اگر ایک ہندو کسی جگہ جاتا ہے تو وہ مسلمانوں کا گلا کاٹنے کی کوشش کرتا ہے، اگر ایک مسلمان کسی جگہ جاتا ہے تو وہ ہندوؤں کا گلا کاٹنے کی کوشش کرتا ہے اور اگر کوئی سکھ جاتا ہے تو وہ ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کا گلا کاٹنے کی کوشش کرتا ہے۔غرض ہر فرقہ کا آدمی دوسرے فرقہ کے آدمی کا گلا کاٹنے کی کوشش کرتا ہے۔ایک ضلع کا آدمی دوسرے ضلع میں جاتا ہے تو دوسرے ضلع کے لوگوں کی ضرورتوں سے بالکل بے پروا ہوتا ہے۔اسی طرح ایک قوم کا آدمی دوسری قوم کے آدمیوں کا خیال نہیں کرتا۔میں یہ تو بڑی لمبی اور دُور کی باتیں کرتا ہوں۔حقیقت یہ ہے کہ انہیں اپنے اور اپنے بیوی بچوں کے سوا اور کسی کا بھی فکر نہیں ہوتا۔پس ہمیں وہاں کھیل کود اور لڑائی جھگڑے کے لئے جانے کی ضرورت نہیں۔اس کی بھی ضرورت نہیں کہ ہم وہاں جا کر اپنی جماعت کے لئے حقوق مانگیں۔یہ صحیح ہے کہ ہماری جماعت کو جب