خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 677 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 677

*1946 677 خطبات محمود ہو سکتیں۔کہتے ہیں کہ ایک مچھلی سارے تالاب کو گندا کر دیتی ہے۔ایک دو پیسے کی دیا سلائی کے لئے ایک شخص جھوٹ بولتا ہے کہ میرے پاس نہیں ہے اور پھر ایک اور شخص سے آنہ لے کر اسے کھڑ کی میں سے دیا سلائی دے دیتا ہے۔یہ کتنے افسوس کی بات ہے اور پھر اس کے باوجود وہ محلہ کا پریذیڈنٹ یا کوئی اور عہدہ دار یا خدام الاحمدیہ کا ممبر یا انصار اللہ کا ممبر ہونے کا بھی دعویٰ کرتا ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں سے چیزیں خرید نے والا شخص بھی یہ سمجھنے لگتا ہے کہ یہ فعل معمولی بات ہے۔پس ایسے لوگ دوسرے لوگوں کے دین کو خراب کرنے کا موجب بنتے ہیں۔بھٹہ والوں کے پاس جب کوئی شخص اینٹ خریدنے کے لئے جاتا ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ فلاں چودھری صاحب نے تمام کی تمام اینٹ رکوا لی ہے۔ہم آپ کو نہیں دے سکتے۔اور پھر اگر وہی شخص دوسری طرف سے ہو کر کہے کہ اچھا پچاس روپے لے لیں اور میرا کام کر دیں تو کہہ دیتے ہیں کہ اچھا ہم آپ کا کام کر دیں گے ، آخر آپ کا لحاظ کرنا ہی پڑتا ہے۔حضرت خلیفہ اول ایک ڈپٹی صاحب کے متعلق سنایا کرتے تھے کہ وہ رشوت تہجد کے وقت لیا کرتے تھے۔جب کوئی شخص دن کے وقت اُن کے پاس آتا تو اسے گالیاں دے کر نکال دیتے۔آخر نو کر اُسے کہتے کہ ہمیں پانچ سات روپے آپ دے دیں ہم آپ کو ترکیب بتا دیتے ہیں۔جب وہ اُن کا منہ بھر دیتا تو وہ اُسے بتادیتے کہ تم تہجد کے وقت آجانا اور اصرار کرتے چلے جانا۔آخر ڈپٹی صاحب خود بخود تمہیں کہہ دیں گے کہ روپے رکھ جاؤ اور چلے جاؤ۔چنانچہ وہ شخص ان کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق تہجد کے وقت آتا اور بیٹھ جاتا اور رقم پیش کر دیتا کہ آپ ہم غریبوں پر رحم کریں، ہم آپ کے پاس نہ آئیں تو کس کے پاس جائیں۔ڈپٹی صاحب اُسے گالیاں دیتے ، بے ایمان! تم نے تو میری نماز خراب کر دی۔نماز کے وقت شور مچاتے ہو۔وہ آنے والا کہتا میں کیا کروں۔آخر میں بھی تو اللہ کا بندہ ہوں۔یہ بھی تو اللہ تعالیٰ کا کام ہے آپ ہم پر رحم کھائیں۔آخر وہ غصہ سے منہ لال کر کے کہتے اچھار کھ مصلے کے نیچے اور دفع ہو جا۔میری نماز خراب نہ کر۔اور پھر اس کے بعد تسبیح پھیر ناشروع کر دیتے۔اسی قسم کے لوگوں کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خبر دی تھی کہ مومن روپیہ لائیں گے لیکن بعض بے ایمان لوگ اسے کھانا شروع کر دیں گے۔