خطبات محمود (جلد 27) — Page 676
*1946 676 خطبات محمود شکایات پیدا ہو رہی ہیں کہ دکاندار بلیک مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں۔مثلاً دیا سلائیاں گورنمنٹ کے پاس سے دکاندار ڈیڑھ پیسہ فی دیا سلائی کے حساب سے لاتے ہیں لیکن یہاں ایک آنہ بلکہ دو آنہ میں فروخت کرتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اس میں لینے والوں کا بھی قصور ہے۔وہ کیوں بلیک مارکیٹ سے خریدتے ہیں ؟ جب گورنمنٹ کا قانون اس کی تائید میں ہے اور خدائی قانون بھی بلیک مارکیٹ میں بیچنے اور خریدنے سے منع کرتا ہے تو پھر ڈرنے کی کیا وجہ ہے؟ جب خدا تعالیٰ کی بادشاہت اور دنیا کی بادشاہت کسی معاملہ میں اکٹھی ہو جائیں تو پھر خطرہ کس بات کا رہ جاتا ہے۔؟ اگر زمینی بادشاہت اور آسمانی بادشاہت کے حکموں میں اختلاف ہو تو پھر بے شک ڈرنے کا مقام ہے۔مومن تو اس بات سے ڈرتا ہے کہ اگر میں زمینی بادشاہت کا حکم مانوں تو آسمانی بادشاہت ناراض نہ ہو جائے اور منافق اِس بات سے ڈرتا ہے کہ اگر میں نے دنیا کی بادشاہت کا حکم نہ مانا تو وہ مجھ سے ناراض ہو جائے گی۔پس مومن ڈرتا ہے کہ میں خدائی بادشاہت کے حکم کا انکار کر کے بے ایمان نہ ہو جاؤں اور منافق ڈرتا ہے کہ زمینی طاقتیں میرے خلاف ہو جائیں گی اور وہ مجھے نقصان پہنچائیں گی۔لیکن جب آسمانی اور زمینی طاقتیں ایک ہی حکم دیں تو پھر کسی کے لئے بھی خطرہ نہیں۔پس آپ لوگوں کو چاہئے کہ آپ فوراً شکایت کریں کہ فلاں دکاندار نے مجھے فلاں چیز اس قیمت پر دی اور اتنی زیادہ قیمت وصول کی ہے۔ہم اُسے پہلے جماعتی سزا دیں گے۔اگر اس کے باوجود اس کی اصلاح نہ ہوئی تو اُسے جماعتی سزا بھی دیں گے اور گور نمنٹ کے سپر د بھی کریں گے۔جو شخص باوجود ان تمام سہولتوں کے جو گور نمنٹ نے دی ہیں اور عمدہ قیمتوں کے جو گورنمنٹ نے مقرر کی ہیں پھر بھی ناجائز نفع حاصل کرنا چاہتا ہے تو اُس کی وجہ سوائے اس کے اور کوئی نہیں کہ وہ اپنی شقاوت قلب اور بد دیانتی کا ثبوت دینا چاہتا ہے۔یہ عجیب بات ہے کہ جس شخص کو ہمارے اصول اور ہمارے احکام پسند نہیں وہ ہماری جماعت میں رہتا کیوں ہے؟ اُسے چاہئے کہ وہ فوراً الگ ہو جائے۔ہم نے اُسے پکڑ کر نہیں رکھا ہوا۔لیکن ایک طرف تو ایک مذہب میں داخل ہونا اور دوسری طرف بد دیانتی کے کام کرنا یہ دونوں چیزیں جمع نہیں