خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 651 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 651

*1946 651 خطبات محمود مبلغین تو یہاں سے باہر کے ممالک میں جائیں گے اور کچھ مبلغین باہر سے واپس بھی آئیں گے۔مبلغین کی موجودہ تعداد جو باہر جانے والی ہے اُن کو باہر بھیجنے کے خرچ کی اوسط تقریباً دو ہزار روپیہ فی مبلغ کا اندازہ لگایا گیا ہے اور اس وقت تک پچاس کے قریب مبلغین باہر جاچکے ہیں جن کا خرچ ایک لاکھ روپیہ کے قریب بنتا ہے۔اس کے علاوہ کچھ مبلغین باہر جانے کے لئے تیاری کر رہے ہیں۔ان کے پاسپورٹ تیار کرانے اور ریل اور جہازوں کے کرایہ کا خرچ بھی پچاس آدمی کے لئے ایک لاکھ روپیہ تک بنتا ہے۔اسی طرح باہر کے ممالک کے مبلغین کی تعداد سوتک پہنچ جائے گی۔اگر یہ مبلغین تیسرے سال کے بعد بھی واپس آئیں اور خرچ اس وقت سے قیمتوں کے گرنے کی وجہ سے کم بھی ہو جائے تب بھی ان کو لانے اور لے جانے کا مجموعی خرچ اند از آڈیڑھ لاکھ ہوگا۔یعنی سو مبلغ بھیجوانے اور سو مبلغ کو واپس بلانے کا یہ جو میں نے دولاکھ کا خرچ او پر بتایا ہے وہ صرف پہلی دفعہ کے مبلغین کے خرچ کا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دفعہ ہم صرف اپنے مبلغین کو باہر بھیج رہے ہیں اور باہر سے آنے والے کوئی نہیں ہیں۔اور ان جانے والے مبلغین میں سے اکثر نئی جگہوں میں جارہے ہیں۔انگلستان میں پہلے مولوی جلال الدین صاحب شمس تھے۔صرف ان کے واپس آنے کا خرچ ہوا۔لیکن ان کی جگہ اب چار نئے مبلغین تو جاچکے ہیں اور دو اب جا رہے ہیں۔گویا ان کی جگہ چھ کے جانے کا خرچ برداشت کرنا پڑا۔مگر آنے کا خرچ صرف ایک مبلغ کا برداشت کرنا پڑا۔لیکن دو سال کے بعد چھ مبلغ کے آنے کا اور چھ مبلغ بھیجنے کا خرچ برداشت کرنا پڑے گا۔اسی طرح امریکہ کی طرف بھی صرف یہاں سے مبلغین بھیجے جارہے ہیں۔وہاں سے واپس آنے والے صرف صوفی صاحب ہیں۔فرانس کے ملک میں اس سے پہلے مبلغین نہیں تھے اب دو بھیجے گئے ہیں۔اٹلی کے ملک میں پہلے صرف ایک مبلغ تھا اب دو اور بھیجے گئے ہیں۔سپین کے علاقہ میں پہلے مبلغین نہیں تھے۔اب دو بھیجے گئے ہیں۔اسی طرح جرمنی اور سوئٹزر لینڈ کے علاقوں میں پہلے مبلغین نہیں تھے۔اب تین بھیجے گئے ہیں۔اس کے علاوہ ویسٹ افریقہ میں پہلے ہمارے صرف تین مبلغ تھے اب اور بھیجے جارہے ہیں۔بارہ یا چودہ مبلغین تو وہاں جاچکے ہیں اور پندرہ یا سولہ اب جانے والے ہیں۔پہلے صرف تین مبلغ وہاں تھے۔اب انشاء اللہ جلد ستائیس اٹھائیس مبلغ ہو جائیں گے۔اس کے علاوہ ایسٹ افریقہ میں