خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 645 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 645

*1946 645 خطبات محمود اور جو طریق دیہات کے لوگ استعمال کرتے ہیں وہی طریق اگر یہاں بھی استعمال کیا جائے تو جلسہ تک بیسیوں مکانات تیار کئے جاسکتے ہیں۔دیہات والے عموماً پانی دے کر زمین کو نرم کر لیتے ہیں اور پھر جہاں دیواریں بنانی مقصود ہوں اُس کے آس پاس سے کیوں 3 سے مٹی کھودتے جاتے ہیں اور دیواریں بنانی شروع کر دیتے ہیں اور دوہی دن میں چھوٹا سا مکان تیار ہو جاتا ہے۔دیہات والوں کو تو مزدوروں کی ضرورت ہوتی ہے اور ان کا تھوڑا بہت خرچ آتا ہے۔مگر ، قادیان کے لوگ بغیر کچھ خرچ کئے خود اپنی ہمت اور محنت کے ساتھ کام کر سکتے ہیں۔اور ایک ہفتہ کے اندر اندر بیسیوں مکانات تیار ہو سکتے ہیں۔جب چار دیواری مکمل ہو جائے تو اس پر پھوس اور بانس ڈالے جاسکتے ہیں۔یا پھوس نہ ملے تو درختوں کی شاخیں ڈالی جاسکتی ہیں۔اور اگر کسی نے آئندہ جلدی قادیان میں اپنا مکان بنانا ہو تو وہ دروازے لگالے ورنہ دروازے لگانے کی بجائے بانس کے کھٹکے لگائے جاسکتے ہیں۔اگر اس قسم کے مکانات تیار ہو جائیں تو سینکڑوں اور ہزاروں مہمان ان میں سما سکتے ہیں۔میں نے کل بھی منتظمین کو اس بارہ میں توجہ دلائی تھی اور آج پھر توجہ دلاتا ہوں کہ یہ کام جس قدر جلد ہو سکے شروع کر دیا جائے اور اس میں ہر گز تأخیر نہیں ہونی چاہئے تاکہ یہ مکانات جلسہ کے دنوں میں کام آسکیں۔اس کام کے لئے اگر قادیان میں خالی پڑی ہوئی زمینیں ناکافی ہوں تو ایک اور صورت بھی ہو سکتی ہے کہ مشرقی جو ہر کے بالمقابل جو زمینیں احمدیوں کی ہیں ان سے ایک یا دو سال وہ زمینیں مقاطعہ 4 پر لی جاسکتی ہیں۔اور میر اخیال ہے وہ اس سے انکار بھی نہیں کریں گے۔اور اس پر اگر کچھ خرچ بھی کرنا پڑے تو کرنا چاہئے۔کیونکہ فرض کرو اس کام پر پانچ سات ہزار روپیہ خرچ ہو جائے تو اتنا روپیہ تھوڑے عرصہ میں کرایہ کا ہی نکل آئے گا اور مہمانوں کے لئے کافی جگہ نکل آئے گی۔میں سمجھتا ہوں کہ ان میں ہزاروں ہزار مہمان ٹھہر سکتے ہیں۔بے شک وہ مکانات کچے ہوں گے مگر جو مہمان جلسے کے ایام میں نیچے بستر لگاتے ہیں اُن کو اِس میں کیا اعتراض ہو سکتا ہے کہ مکانات کچے ہیں۔آخر مدرسہ احمدیہ میں ہر سال مہمان ٹھہرتے ہیں وہ مکان بھی تو کچے ہی ہیں۔پھر مہمان خانہ میں ہمیشہ مہمان ٹھہرتے ہیں وہ مکان بھی کچے ہیں اور مہمانوں کو ان مکانوں میں ٹھہرانے کی اصل غرض تو یہی ہے کہ وہ رات کی سردی سے بچ سکیں اور سرد ہوا لگنے سے