خطبات محمود (جلد 27) — Page 641
*1946 641 خطبات محمود اضافہ ہو تا جارہا ہے۔مگر ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی غفلت کی وجہ سے اس مہمان نوازی کے ثواب سے محروم نہ رہ جائیں۔جلسے کی رونق تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر سال بڑھتی ہی چلی جائے گی اور ہر نیا سال نئے اضافہ کا موجب بنتا چلا جائے گا۔آپ لوگوں کو یہ خدمات کسی صورت میں معاف نہیں کی جاسکتیں۔جوں جوں جلسہ سالانہ کی تعداد میں زیادتی ہوتی چلی جائے گی توں توں تمہاری ذمہ داریاں بھی بڑھتی جائیں گی۔اس لئے زیادہ سے زیادہ دوست اپنی خدمات جلسہ کے ایام کے لئے وقف کریں۔اب تو کالج بھی قائم ہو چکا ہے اور دو سو سے اوپر لڑکا کالج میں تعلیم پاتا ہے۔ان میں سے اگر غیر احمدی اور سکھ نکال دیئے جائیں تو بھی ایک سو پچاس کے قریب لڑکے ایسے ہو سکتے ہیں جو جلسے کے ایام میں اچھے کارکن بن سکیں گے۔اسی طرح ہائی سکول میں اس وقت سترہ سو کی تعداد میں لڑکے تعلیم پارہے ہیں۔اگر ان میں سے چھوٹے بچوں کو نکال دیں تو آٹھ سو کے قریب کارکن وہاں سے مل سکتے ہیں۔اسی طرح مدرسہ احمدیہ اور جامعہ والے سو کے قریب کار کن دے سکتے ہیں۔اس کے علاوہ واقفین میں سے اور پیشہ وروں اور دکانداروں میں سے بھی کارکن لئے جا سکتے ہیں۔آخر وہ سال بھر اپنے دنیوی کاموں میں مشغول رہتے ہیں۔تو کیا وجہ ہے کہ وہ دو چار دن دینی کاموں میں حصہ نہ لے سکیں۔اس لئے قادیان والوں کا یہ فرض ہے کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں اپنے آپ کو جلسہ سالانہ میں کام کرنے کے لئے پیش کریں اور دو چار دن سلسلہ کی خدمت اور مہمانوں کی مہمان نوازی کے لئے وقف کریں۔اِس وقت قادیان میں چودہ ہزار کے قریب آبادی ہے۔اگر اس میں سے بچوں، عورتوں اور ایسے لوگوں کو نکال دیا جائے جو کام کرنے کے قابل نہیں ہیں تو چھ ہزار کے قریب کارکن مل جانا چاہئے۔آخر یہ کام اتنا سخت تو نہیں کہ وہ نہ کر سکتے ہوں۔اس میں نہ تو فوجی پریڈ ہے اور نہ ہی زیادہ محنت کا کام ہے۔دوسری طرف میں کام کرنے والوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ میں نے گزشتہ سال سے تو بوجہ ان ایام میں بیمار رہنے کے تجربہ نہیں کیا البتہ اس سے پہلے میں نے تجربہ کیا تھا کہ جلسہ کے ایام میں بہت سا کھانا غفلت، سُستی اور لا پرواہی کی وجہ سے ضائع چلا جاتا ہے اور یہ صرف مقامی آدمیوں کی بد انتظامی کی وجہ سے ہوتا ہے کہ کھانا محلوں اور گلیوں میں پھیل جاتا ہے۔