خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 621 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 621

*1946 621 43 خطبات محمود دور و یا جو واقعات نے سچے ثابت کر دیے ) فرمودہ 22 نومبر 1946ء) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔پچھلے دنوں میں نے بعض رؤیاد یکھی تھیں جو میں نے بعض دوستوں کو بھی سنائیں اور الفضل میں بھی شائع ہو چکی ہیں۔میں نے ایک رؤیا جو 25 اکتوبر کو مجلس میں بیان کی تھی اُس کے متعلق میں نے ذکر کیا تھا کہ وہ دہلی سے واپس آنے پر میں نے دیکھی ہے۔اس کی تعبیر اس وقت جو میں نے کی تھی وہ اُس وقت کے حالات کو مد نظر رکھ کر بیان کی تھی اور میرا ذہن اصل تعبیر کی طرف نہیں گیا تھا لیکن بعد کے حالات نے بتادیا کہ اصل میں وہ تعبیر صحیح نہ تھی اور رؤیا کے الفاظ قابل تعبیر نہ تھے بلکہ اُسی قسم کے حالات رونما ہونے والے تھے جیسا کہ خواب میں دکھایا گیا تھا۔یہ رویا 31 اکتوبر کے الفضل میں شائع ہوئی ہے اور 25 اکتوبر کو بعد نماز مغرب میں نے بیان کی اور وہ جمعہ کا دن تھا۔میں نے اس خواب کا ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب سے بھی ذکر کیا تھا۔ڈاکٹر صاحب میری بچی کے ہمراہ اس کے دانت دکھانے کے لئے لاہور جارہے تھے۔وہ 20 اکتوبر کو لاہور گئے۔میں نے ان سے 19 اکتوبر کو اس خواب کا ذکر کیا تھا۔اس سے ایک دو دن پہلے کی یہ رویا تھی۔پس بہر حال یہ رویا 17 یا 18 اکتوبر کو میں نے دیکھی ہے۔چنانچہ اخبار میں یہ الفاظ چھپے ہیں کہ دہلی سے واپس قادیان آکر میں نے یہ رؤیا دیکھا۔اس رؤیا کے الفاظ یہ ہیں۔میں نے رویا میں دیکھا کہ سارہ بیگم مرحومہ میرے سامنے آئی ہیں۔میں ان کی