خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 592 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 592

*1946 592 خطبات محمود پر شائع کیا۔یعنی جو خبریں مسلمانوں کی تائید میں تھیں ان کو دبایا اور جو خبریں مسلمانوں کے خلاف تھیں ان کو نمایاں طور پر شائع کیا۔مگر باوجود یہ ساری باتیں مان لینے کے یہ کیونکر جائز ہو گیا کہ وہ طریق اختیار کیا جاتا جو عقلاً بھی مسلمانوں کے لئے مضر ہے اور عقیدۃ بھی قرآن کریم کے خلاف ہے۔دو ہی وجوہ سے کوئی کام کیا جاتا ہے یا اِس وجہ سے کہ عقل اس کا تقاضا کرتی ہے یا اس وجہ سے کہ مذہب اس کے ماننے پر مجبور کرتا ہے۔اگر مسلمان قرآن کریم کو مانتے تو کیا قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ اگر کسی جگہ کے ہندو مسلمانوں کو ماریں تو تم دوسری جگہ ہندوؤں کو مار نا شروع کر دو؟ اور اگر وہ قرآن کو نہیں مانتے محض دکھاوے کے لئے اس پر اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں تو کیا عقل اس بات کی تائید کرتی ہے کہ اقلیت ایک جگہ کا بدلہ لینے کے لئے دوسری جگہ مار دھاڑ شروع کر دے؟ لازماً جب مار دھاڑ شروع ہو گی اکثریت ہی جیتے گی، اقلیت نہیں جیت سکتی۔جب تین ہندو ایک طرف ہیں اور ایک مسلمان ایک طرف تو مسلمان یہ خیال بھی کس طرح کر سکتے ہیں کہ ہندوؤں کے مقابلہ میں وہ جیت جائیں گے۔لازما جب بھی مقابلہ ہو گا ایک ہارے گا اور تین جیتیں گے۔اور پھر ایک بھی ایسا جس کے اندر نہ تنظیم ہو نہ طاقت ، جس کے پاس نہ دولت ہو نہ علم۔وہ بھلا جیت ہی کہاں سکتا ہے ؟ پس اگر مسلمان قرآن کو بھول گئے تھے تو کم سے کم انہیں عقل سے تو کام لینا چاہئے تھا اور سمجھ لینا چاہئے تھا کہ ایک مسلمان تین ہندوؤں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔مگر افسوس ہے کہ مسلمانوں نے نہ قرآن کریم کے مطابق کام کیا اور نہ عقل کے مطابق کام کیا۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ اگر یہ بات ہے تو تمہیں مسلمانوں کے دکھ پر دُکھ کیوں ہوتا ہے اور تم ان کی تکلیف پر گڑھتے کیوں ہو ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ میں صرف مسلمانوں کے لئے نہیں گڑھتا۔میں اپنے ملک کے لئے گڑھتا ہوں ، میں اپنے ملک کی ہر قوم کے لئے گڑھتا ہوں، میں اسی طرح مسلمانوں کے لئے گڑھتا ہوں جس طرح ہندو قوم کے لئے گڑھ رہا ہوں۔کیونکہ اگر مسلمان مارے جائیں تو یقیناً ہندو قوم بھی دنیا میں زندہ نہیں رہ سکتی۔پس میرا دل دکھتا ہے اس لئے نہیں کہ مسلمان مارے جارہے ہیں، اس لئے نہیں کہ ہند ومارے جارہے ہیں بلکہ اس لئے کہ اگر یہی طریق جاری رہا تو ہندو بھی اور مسلمان بھی اور ساتھ ہی ہندوستان