خطبات محمود (جلد 27) — Page 584
*1946 584 خطبات محمود وہاں یہ دعا بطور عبادت ہوتی ہے۔اصل قانون جو خدا تعالیٰ نے بنایا ہے یہی ہے کہ کام کرو تو نتیجہ نکلے گا۔پس نتیجہ کام کے بدلہ میں ہوتا ہے اور فضل الہی دعا کے بدلہ میں ہوتا ہے۔گویا اس کام کا نتیجہ عمل پیدا کرتا ہے اور اس کام کا ثواب دعا پیدا کرتی ہے لیکن ایک وقت ایسا آتا ہے جب دعا کے بغیر اور کوئی چارہ ہی نہیں رہتا۔اُس وقت دعا نتیجہ پیدا کرتی ہے اور کام ثواب پیدا کرتا ہے۔یعنی وہ ایسا وقت ہوتا ہے جب بظاہر انسانی تدابیر بے کار اور انسانی کوششیں بے فائدہ ہو جاتی ہیں اور انسان اس بات کو محسوس کرتا ہے کہ اب میری کوششیں مجھے نفع نہیں دے سکتیں۔اُس وقت وہ کام تو کرتا ہے مگر اس لئے کہ خدا نے کہا ہے کام کرو۔اور دعا کرتا ہے اس لئے کہ وہ سمجھتا ہے۔آج دعا کے بغیر کام نہیں ہو گا۔پس پہلی اور دوسری حالت بظاہر یکساں نظر آتی ہے۔پہلی حالت میں بھی انسان دعا کرتا ہے اور دوسری حالت میں بھی انسان دعا کرتا ہے۔پہلی حالت میں بھی انسان عمل کرتا ہے اور دوسری حالت میں بھی انسان عمل کرتا ہے اور بظاہر دونوں حالتیں ایک جیسی معلوم ہوتی ہیں۔لیکن حقیقتا ان میں فرق ہوتا ہے۔اور وہ فرق یہ ہے کہ پہلی حالت میں اصل نتیجہ عمل پیدا کرتا ہے اور دعا بطور عبادت ہوتی ہے لیکن دوسری حالت میں اصل نتیجہ دعا پیدا کرتی ہے اور عمل بطور عبادت ہوتا ہے۔وہ عمل اس لئے نہیں کرتا کہ نتیجہ نکلے بلکہ اس لئے عمل کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے کہا ہے کہ عمل کرو۔غرض ایک میں عمل کو اہمیت ہوتی ہے نتیجہ کے لحاظ سے اور دعا کو اہمیت ہوتی ہے ثواب کے لحاظ سے۔اور دوسری صورت میں عمل کو اہمیت بلحاظ ثواب حاصل ہوتی ہے اور دعا کو اہمیت بلحاظ نتیجہ حاصل ہوتی ہے۔جو لوگ سچے مذہب سے تعلق رکھتے ہیں وہ تو ان باتوں کو جانتے ہی ہیں۔بعض دفعہ ایسے لوگ بھی جو مذہب سے دور جاچکے ہوتے ہیں اس بات کو سمجھ جاتے ہیں کہ اب دعا ہی نتیجہ پیدا کر سکتی ہے عمل کوئی نتیجہ پیدا نہیں کر سکتا۔گزشتہ جنگ میں جبکہ مسٹر لائڈ جارج انگلستان کے وزیر اعظم تھے جب لڑائی اپنے آخری مرحلہ پر پہنچی تو حکومت جرمنی نے برطانیہ اور فرانس کی صفوں پر آخری حملہ اتنی شدت سے کیا کہ انگریزی صفیں بالکل ٹوٹ گئیں اور اس طرح ٹوٹیں کہ اُن کی جگہ لینے کے لئے کوئی نئی انگریزی فوج آس پاس باقی نہ رہی۔کمانڈر انچیف نے مسٹر لائڈ جارج کو جو اُس وقت