خطبات محمود (جلد 27) — Page 583
*1946 583 خطبات محمود حضرت خلیفہ اول ہمیشہ سبوس اسپغول، شربت بنفشہ اور عرق بادیان استعمال کراتے تھے اور ہم نے اس کا استعمال اکثر مفید پایا ہے۔اس کے بعد میں خطبہ کے مضمون کی طرف آتا ہوں۔دنیا میں بعض اوقات ایسے ہوتے ہیں جب بولنا بہت کچھ فائدہ رکھتا ہے۔بعض اوقات ایسے ہوتے ہیں جب بولنے کی اہمیت کم ہو جاتی ہے اور عمل کی اہمیت بڑھ جاتی ہے اور بعض اوقات ایسے آتے ہیں جب نہ بولنے سے کام چلتا ہے اور نہ خالی عمل اپنی جگہ کام آتا ہے۔اُس وقت جہاں تک نتیجہ کا سوال ہو تا ہے صرف خدا ہی کی ذات رہ جاتی ہے جو انسان کے کام آسکے اور جس کی امداد سے کوئی نیک نتیجہ پیدا ہو سکے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن کریم میں اور احادیث میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے ہمیں متواتر اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے اور خدا تعالیٰ کا قانون بھی دنیا میں یہی ہے کہ انسان کو مناسب حال عمل کرنے چاہئیں۔پس مناسب حال عمل کو کسی صورت میں بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔لیکن ایک وقت تو انسان پر ایسا آتا ہے جب وہ سمجھتا ہے کہ عمل ہی خدا تعالیٰ کے فضل کے ماتحت میرے کاموں کو سنوار دے گا مگر دوسر ا وقت جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے بعض دفعہ ایسا بھی آتا ہے جب انسان عمل تو کرتا ہے اور کہتا ہے کہ جب خدا نے مجھے کہا ہے کہ عمل کرو تو میرے لئے ضروری ہے کہ میں عمل کو ترک نہ کروں۔لیکن ساتھ ہی وہ سمجھتا ہے کہ حالات اس قسم کے ہیں کہ میرا عمل کوئی نتیجہ پیدا نہیں کر سکتا۔اب جو کچھ کر سکتا ہے خدا ہی کر سکتا ہے۔یوں عمل اور دعا دونوں وقت ہی ہوتے ہیں۔اُس وقت بھی عمل اور دعا دونوں اکٹھے ہوتے ہیں۔جب عام طور پر عمل نتیجہ پیدا کرتا ہے اور اُس وقت بھی دونوں موجود ہوتے ہیں جب صرف دعا ہی نتیجہ پیدا کرتی ہے۔مگر پہلے وقت میں دعا بطور عبادت کے ہوتی ہے کیونکہ وہ عام حالات میں عمل سے ہی کام کرنے والا ہو تا ہے۔مثلاً کپڑا سینے والا کپڑا سیتا ہے، بجو تا بنانے والا جوتا بناتا ہے اور اپنے کام کو شروع کرتے ہوئے بِسمِ الله الرَّحْمَانِ الرَّحِيْمِ کہتا ہے۔جس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ میں خدا کی مدد سے کپڑا سیتا ہوں یا خدا کی مدد سے جو تا بناتا ہوں یا خدا کی مدد سے تالا بناتا ہوں یا خدا کی مدد سے دروازہ بناتاہوں یا خدا کی مدد سے عمارت بناتا ہوں۔غرض ہر مومن مزدور کام کرتے وقت خدا کا نام لیتا ہے مگر