خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 558 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 558

*1946 558 خطبات محمود تیرے اور تیری اولاد کے ساتھ وابستہ رہے گی۔پس جب کبھی خدا کسی قوم پر اپنا فضل نازل کرتا ہے وہ ہمیشہ اس فضل کے نازل کرنے سے پہلے اس سے قربانی کا تقاضا کرتا ہے۔جب قوم اس مطالبہ پر اپنی قربانی پیش کر دیتی ہے تب اس کی طرف سے فضل نازل ہوتے اور اپنے انتہائی کمال کو پہنچ جاتے ہیں۔پس دین کی ترقی اور دلوں کو بدلنا بے شک خدا کے اختیار میں ہے مگر خدا اپنا اختیار تب استعمال کرتا ہے جب اپنے دل اس کے لئے قربان کر دیئے جائیں۔جب ایک انسان اپنے دل کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے قربان کر دیتا ہے تو خدا اس کے لئے نئے دل پیدا کر دیتا ہے۔یہ کام ہے جو ہمارے ذمہ ہے مگر ابھی ہماری جماعت نے اس طرف پوری توجہ نہیں کی۔میں متواتر جماعت کو توجہ دلا رہا ہوں کہ اسے اپنے فرائض کا احساس کرتے ہوئے تبلیغ میں پوری سر گرمی سے حصہ لینا چاہئے اور اب خدا تعالیٰ کی طرف سے جو مجھے تازہ رؤیا و کشوف ہو رہے ہیں ان میں بھی متواتر بتایا جا رہا ہے کہ اس کام کی طرف خود بھی توجہ کرو اور جماعت کو بھی توجہ دلاؤ۔جب کبھی خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی خبر دی جاتی ہے۔اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ کام کیا جائے۔اور جب وقت آنے پر کوئی کام نہ کیا جائے تو آپ لوگ یہ جانتے ہی ہیں کہ بے وقت تو کوئی کام ہو ہی نہیں کرتا۔لوگ گندم بوتے ہیں او راس کے موسم میں بوتے ہیں۔کیا کسی نے دیکھا ہے کہ اگست یا جنوری فروری میں گندم کی فصل ہوئی جارہی ہو ؟ یا کپاس لوگ مارچ سے جون تک بوتے ہیں۔مگر کیا کسی نے دیکھا کہ کوئی شخص ستمبر یا جنوری میں کپاس بو رہا ہو ؟ وہ اسی لئے نہیں ہوتے کہ وہ جانتے ہیں اب گندم یا کپاس بونے کا وقت نہیں۔اگر ہم بوئیں گے تو ہم اپنے بیج کو ضائع کرنے والے ہوں گے۔تم اگر گندم کا بیج ہیں پچیس سیر کی بجائے تین چار مئن بھی جنوری فروری میں بو دو تو اس سے غلہ پیدا نہیں ہو گا بلکہ پہلا پیج بھی ضائع چلا جائے گا۔پس بے موقع قربانی کام نہیں آیا کرتی بلکہ وہی قربانی انسان کے کام آتی ہے جو موقع کے مطابق کی جائے۔جس طرح فصل کے بونے کا موقع ہوتا ہے اسی طرح تبلیغ کے بھی مواقع ہوتے ہیں۔سب سے اعلیٰ اور سب سے بہتر تبلیغ کا موقع وہ ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کسی نبی کو دنیا کی ہدایت کے لئے مبعوث فرماتا ہے۔اُس وقت خدائی فیصلہ یہ ہوتا ہے