خطبات محمود (جلد 27) — Page 549
*1946 549 خطبات محمود کریں گے وہ ہندوؤں کے حملہ سے کلی طور پر محفوظ نہیں ہو سکیں گے۔بہر حال اس سکیم کی کوئی ایک چیز بھی ایسی نہیں جس سے آزاد ہو کر مسلمان ترقی کر سکیں۔مجھے افسوس کے ساتھ یہ بھی کہنا پڑتا ہے کہ ہماری جماعت میں اب یہ تحریک اتنی مضبوط نہیں رہی جتنی پہلے ہوا کرتی تھی بلکہ آہستہ آہستہ اس کے اصول پر عمل کرنے میں کمی واقع ہو گئی ہے۔میں اور لوگوں کو کیا کہوں جیسا کہ میں نے پہلے بھی ایک خطبہ میں بیان کیا تھا خود ہمارے گھروں میں اِس پر پوری طرح عمل نہیں رہا تھا اور کئی بہانوں سے حکم کو کمزور کیا جاتا رہا۔آخر اس دفعہ ڈلہوزی میں میں نے وہی طریق اختیار کیا جو قرآن کریم میں رسول کریم صلی ال نیلم کو بتایا گیا کہ اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ یا تو ان ان قواعد کی پابندی کرو ورنہ مجھ سے طلاق لے لو۔5 میں نے بھی اپنی بیویوں سے کہہ دیا کہ یا تو تم تحریک جدید پر عمل کرو اور اگر تم عمل کرنا نہیں چاہتیں تو مجھ سے طلاق لے لو۔اس پر سب نے عہد کیا کہ وہ آئندہ تحریک جدید پر با قاعدگی سے عمل کیا کریں گی۔چنانچہ اُس دن کے بعد ہمارے گھروں میں اس پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جب تک ہم اپنے حالات کو نہیں بدلتے ، جب تک ہم اپنے اخراجات کو بعض حدود میں نہیں رکھتے اور جب تک اپنے اندر جفاکشی اور محنت کی عادت پیدا نہیں کرتے اس وقت تک ہم دنیا کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔اس وقت دنیا سے جو ہماری لڑائی جاری ہے وہ اتنی عظیم الشان ہے کہ اس میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے ہمیں کروڑوں کروڑ روپیہ پانی کی طرح نہیں گرد و غبار کی طرح اُڑانا پڑے گا۔مگر سوال یہ ہے کہ ہماری غریب جماعت یہ کروڑوں کروڑ روپیہ لائے گی کہاں سے؟ جب تک ہماری جماعت اپنے اخراجات پر پابندی عائد نہیں کر لیتی، جب تک ہماری جماعت کے اندر امراء اور غرباء میں برابری پیدا نہیں ہو جاتی، جب تک ہمارے اندر کامل طور پر احساس پیدا نہیں ہو جاتا کہ ہم سب آپس میں بھائی بھائی ہیں، جب تک کھانے کے لحاظ سے ہمارے اندر سادگی نہیں آجاتی، جب تک کپڑوں کے لحاظ سے ہمارے اندر سادگی نہیں آجاتی، جب تک زیورات کے لحاظ سے ہمارے اندر سادگی نہیں آجاتی، جب تک قربانی اور ایثار اور محنت کی عادت ہمارے اندر پیدا نہیں ہو جاتی اُس وقت تک ہم دین کے لئے قربانی کس طرح