خطبات محمود (جلد 27) — Page 548
*1946 548 خطبات محمود کی تھی۔اسی چیز کی آج مسلمان اپنی مصیبت کے دنوں میں نقل کر رہے ہیں اور ان کے لئے سوائے اس کے اور کوئی چارہ نہیں رہا کہ وہ لفظاً لفظاً اُسی سکیم پر عمل کریں جو سکیم میری طرف سے جاری کی گئی تھی۔انہوں نے ایک چیز بھی تو نئی نہیں نکالی۔ساری کی ساری باتیں وہ ہیں جو تحریک جدید میں بیان ہو چکی ہیں۔بے شک بعض باتیں ایسی بھی ہیں جو ابھی انہوں نے اختیار نہیں کیں لیکن بہر حال آج نہیں تو کل اور کل نہیں تو پرسوں وہ باتیں انہیں اختیار کرنی پڑیں گی۔کیونکہ تحریک جدید کے پروگرام میں سے کوئی ایک چیز بھی ایسی نہیں جسے چھوڑا جا سکے۔بے شک بعض چیزوں کی شکل بدلتی چلی جائے گی لیکن اصول وہی رہیں گے جو تحریک جدید میں میں نے بیان کئے ہیں۔مثلاً میں نے یہ تحریک کی تھی کہ قادیان میں مکان بنائے جائیں اور امانت فنڈ میں باقاعدگی سے حصہ لیا جائے تاکہ اس روپیہ سے قادیان اور اس کے ارد گرد سلسلہ کے لئے جائیدادیں خریدی جائیں اور اس طرح مرکز کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنایا جائے۔یہ تحریک بھی ایسی ہے جسے کسی صورت میں چھوڑا نہیں جا سکتا۔مسلمان اگر اپنی حفاظت چاہتے ہیں تو ان کے لئے ضروری ہو گا کہ وہ اپنا مر کز قائم کریں اور پھر اس کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانے کی کوشش کریں۔جب تک وہ بعض شہروں کو اپنے لئے مضبوط مرکز نہیں بنا لیتے۔اس وقت تک وہ دشمن کے حملہ سے کلی طور پر محفوظ نہیں ہو سکتے اور نہ ان کی طاقت بڑھ سکتی ہے۔پس بے شک میری تحریک میں یہ ذکر ہے کہ قادیان میں مکان بنائے جائیں اور سلسلہ کے لئے جائیدادیں خریدی جائیں لیکن وہ اپنے لئے بعض اور شہر ایسے تجویز کر سکتے ہیں جو ان کے لئے مرکز کا کام دیں۔بہر حال ان کے لئے ضروری ہو گا کہ وہ اسی طرح وہاں جائیدادیں خرید کر اپنے مرکز کو مضبوط بنائیں جس طرح ہم نے اپنے مرکز کو مضبوط بنانے کی کوشش کی۔میرے ذہن میں بعض شہر بھی ہیں جن کو مسلمان مرکز کے طور پر منتخب کر سکتے ہیں مگر اس وقت اُن کا ذکر کرنا مناسب نہیں۔میں سر دست صرف اسی قدر کہنا چاہتا ہوں کہ اگر مسلمان ہندوستان میں ہندوؤں کے مقابلہ میں امن کی زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں اور وہ قومی طور پر اپنی طاقت کو بڑھانا چاہتے ہیں تو ان کے لئے ضروری ہو گا کہ جیسے میں نے قادیان میں یہ سکیم جاری کی تھی ویسی ہی وہ سکیم بعض اور شہروں کے متعلق بنائیں۔جب تک وہ ایسا نہیں