خطبات محمود (جلد 27) — Page 44
*1946 44 خطبات محمود بھی وہ ایک عرصہ تک ممبر رہ چکے ہیں مگر انہوں نے اس ضلع کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔پس بجائے اس کے کہ مسلم لیگی لوگ اس فرق کو پورا کرنے کی کوشش کریں انہیں چودھری صاحب کی مدد کرنی چاہئے کیونکہ وہ قریباً دو ہزار ووٹ میاں بدر محی الدین صاحب سے زیادہ حاصل کر چکے ہیں اور ان کی کامیابی کی امید بہت زیادہ ہے بہ نسبت مسلم لیگی ممبر کے۔اسی طرح وہ لوگ جن کی ارد گرد کے گاؤں میں جہاں پولنگ ہو رہا ہے واقفیت ہو یا رشتہ داری ہو تو انہیں بھی کوشش کرنی چاہئے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ووٹ چودھری صاحب کے لئے حاصل کریں۔پھر دوڑ بھاگ کے لئے بہت سے سائیکلسٹوں کی ضرورت ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت بھی قادیان میں ایک سو سے زائد سائیکل ہوں گے۔تین چار سال ہوئے کہ میں نے قادیان کے سائیکلوں کا اندازہ کرایا تھا اس وقت قادیان میں سائیکلوں کی تعداد تین چار سو کے قریب تھی۔پس اگر دوست قومی مفاد کی اہمیت کو سمجھیں تو آج ہی سو آدمی ایسا مل سکتا ہے جو سائیکلوں کے ساتھ مختلف مقامات پر یہ تمام خدمات سر انجام دینے کے لئے چلا جائے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ 1 مومن ہر چیز میں سے خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا ہے تاکہ وہ چیز پاک ہو جائے۔فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر کوئی عورت اپنا زیور غریب عورتوں کو پہنے کے لئے دیتی ہے تو اس زیور پر زکوۃ واجب نہیں۔اس کا غریبوں کو دینا ہی زکوۃ ہے۔یا جو شخص اپنی سواری کا گھوڑا کسی غریب کو سواری کے لئے دیتا رہے یا خدا کی راہ میں اس پر سفر کرتا رہے تو وہی اس کے مال کو پاک کرنے کا موجب ہے۔اسی طرح جو شخص اپنے روپے میں سے غریبوں کو کچھ حصہ دیتا ہے وہ اپنے روپے کو پاک کرتا ہے۔کیا تم باقی سب چیزوں کو تو پاکیزہ اور حلال رکھنا پسند کرتے ہو لیکن سائیکل کو پاک کرنے کی تمہیں ضرورت نہیں ؟ اگر تم یہ چاہتے ہو کہ تمہاری روٹی حلال ہو ، تمہارا روپیہ حلال ہو، تمہارا کپڑا حلال اور پاکیزہ ہو تو کیا وجہ ہے کہ تم اپنے سائیکل کا حلال اور پاکیزہ ہونا پسند نہیں کرتے۔سائیکل کی زکوۃ یہی ہے کہ اسے بوقت ضرورت دینی اور ملی خدمات کے لئے دیا جائے۔لیکن اگر تم ایسا نہیں کرتے تو یقینا سمجھ لو کہ جتنی دیر تم اس سائیکل پر سوار ہو گے تم ایک حرام چیز سے کام لے رہے ہو گے۔