خطبات محمود (جلد 27) — Page 43
*1946 43 خطبات محمود اور قادیان کے بعض اور دوست ان کے ساتھ رات کے تین تین بجے تک کام کرتے رہے ہیں اور اگر محلوں کے پریذیڈنٹ بھی ساتھ شامل کر لئے جائیں تو ان سب کی تعداد بیس پچیس کے قریب ہو جاتی ہے لیکن قادیان کی آبادی اس وقت بارہ ہزار کی ہے۔اتنی آبادی میں سے صرف ہیں پچیس آدمیوں کا کام کرنا سب کو بری نہیں کر دیتا۔بے شک یہ ہیں پچپس آدمی ایسے ہوں گے جو تھک کر چور ہو گئے ہوں۔باقی تو سب تر و تازہ ہیں۔اگر ابھی سب کو قسم دے کر پوچھا جائے کہ جس جس نے الیکشن کے کام میں حصہ لیا ہے وہ کھڑا ہو جائے تو دس فیصدی لوگ بھی کھڑے نہیں ہوں گے۔باقی سب لوگ ایسے ہی ہیں جو اپنے کاموں میں مشغول رہے۔یا دن کو الیکشن کا کام کیا تو رات کو آرام سے سور ہے۔اس لئے وہ اگر سچے دل کے ساتھ کام کرنا چاہیں تو بخوبی کر سکتے ہیں۔تھکاوٹ کا عذر ان کی طرف سے پیش نہیں ہو سکتا۔پس میں دوستوں کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ اصل کام آج سے شروع ہونے والا ہے اور اب وہ دن ہیں کہ بیر و نجات میں دن رات ایک کر کے لوگوں کو یہ سمجھایا جائے کہ تمام امیدواروں میں سے بہترین امیدوار چودھری فتح محمد صاحب ہی ہیں۔ان کے بعد دوسرا مسلم لیگی ممبر ہے۔لیکن چونکہ اس کی کامیابی کی امید کم ہے اس لئے بلحاظ مسلمان ہونے کے اور مسلمانوں کے صحیح خیالات کی ترجمانی کرنے کے چودھری صاحب سے بہتر امیدوار ان کو کوئی نہیں مل سکتا۔دوسرے چودھری صاحب زمیندار ہیں اس لئے زمینداروں کے حالات سے وہ سب سے زیادہ آگاہ ہو سکتے ہیں۔پھر مسلم لیگی ممبر کے ووٹوں میں دو تین ہزار کی کمی ہے جس کو پورا کرنا سخت مشکل امر ہے۔چودھری صاحب کو اس وقت اڑتالیس سو کے قریب ووٹ مل چکے ہیں اور میاں بدر محی الدین صاحب کو بتیس سو کے قریب اور لیگی امیدوار کو ساڑھے بائیس سو کے قریب۔گویا اگر مسلم لیگ والے اپنے ممبر کو کامیاب بنانا چاہیں تو انہیں یہ ستائیس سو کا فرق پورا کر کے پھر اتنا ہی ووٹ اور حاصل کرنا ہو گا جو ایک امر محال ہے۔اس لئے لیگ والوں کے لئے یہی بہتر ہے کہ وہ بجائے اپنے آدمی کو کامیاب بنانے کے ایسے آدمی کی مدد کریں جو ان کا ہم خیال ہے اور مسلم لیگ کے مقاصد سے دلچسپی رکھتا ہے۔لیکن اگر اس کے بر خلاف وہ میاں بدر محی الدین صاحب کو کوئی موقع کامیاب ہونے کا دیں تو ان سے ضلع کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔اس سے پہلے