خطبات محمود (جلد 27) — Page 517
خطبات محمود 517 *1946 اصرار کیا کہ تم خاندان کی ناک کاٹ رہے ہو لیکن اس نے کہا۔ماں! میں نے خاندان کی ناک کائی نہیں بلکہ کٹنے سے بچالی ہے۔اس پر بادشاہ بننے کے لئے بہت زور دیا گیا لیکن اس نے ہر دفعہ انکار کیا اور وہ روتے روتے چالیس دن کے بعد مر گیا۔اس کے باپ نے اس لئے گناہ کیا تھا کہ اس کی اور اس کے خاندان کی عزت بڑھے لیکن خود اس کے بیٹے نے اس جھوٹی عزت پر لات مار دی اور رورو کر جان دے دی۔پس انسان انسانیت سے کتنا ہی دور چلا جائے اور شیطان اس پر کتناہی قابو پالے لیکن ایک دن آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکومت اس کے دل پر قائم ہو جاتی ہے۔پس اگر ملک میں فساد ہوا تو یا مسلمانوں کو گنہ گار سمجھا جائے گا اور یا ہندوؤں کو گنہگار سمجھا جائے گا۔اور یہ گناہ اتنا بڑا گناہ ہو گا کہ وہ نسلاً بعد نسل دونوں قوموں کی خوشی اور راحت کو مٹادے گا اور ان کے دن اور راتیں عذاب میں گزریں گی۔اور وہ نہایت افسوس کے ساتھ کہیں گے کہ کاش! ہماری زندگیاں ختم ہو جائیں اور ہمیں ان پریشانیوں اور مصیبتوں سے نجات مل جائے۔پیشتر اس کے کہ وہ دن آئیں، ہم پر آئیں یا ہمارے بھائیوں پر آئیں ہمیں انتہائی کوشش کرنی چاہئے کہ دنیا اس عذاب سے بچ جائے۔ہمارے پاس اس وقت دنیا کو بچانے کے لئے ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ دعا ہے۔پس ہماری جماعت کو خدا کے حضور رو رو کر دعائیں کرنی چاہئیں اور دن رات جماعت کے دل دعاؤں میں منہمک رہیں، جاگتے ہوئے بھی اور سوتے ہوئے بھی یہ دعا تمہارے دلوں سے نکلتی رہے اور جب تمہاری آنکھ کھلے اُس وقت بھی تمہاری زبان پر یہ دعا جاری ہو۔جب دعا انسان پر غالب آجاتی ہے اور انسان دعا کی چادر اوڑھ لیتا ہے تو یقینا اللہ تعالیٰ اس کی دعاؤں کو قبولیت کا شرف بخشتا ہے۔اور اس پر خدا تعالیٰ کے فضل نازل ہوتے ہیں۔پس صرف سجدوں میں ہی نہیں بلکہ ہر حالت میں تمہارے دل سے یہ دعا نکلتی ر اگر کوئی شخص نہانا چاہے اور بجائے نہانے کے پانی کا ایک قطرہ ڈال کر یہ سمجھ لے کہ میں نے نہا لیا ہے تو ہر انسان اسے پاگل سمجھے گا۔پس تم اپنے دلوں پر اس دعا کو حاوی کر لو اور کھاتے وقت سوتے وقت، اٹھتے بیٹھتے تم دعا کرو کہ اے خدا! تو اپنے فضل سے ملک کے اس فتنہ کو دور کر اور ہندوؤں اور مسلمانوں کے دلوں کو صاف کر دے اور ان کے تعلقات آپس میں بھائیوں رہے۔