خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 516 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 516

*1946 516 خطبات محمود نمازوں میں اور نمازوں کے بغیر چلتے پھرتے ہوئے ، کام کرتے ہوئے ہمارے دلوں سے یہی دعا نکلتی رہنی چاہئے کہ اے خدا! ہمارے ملک کی چالیس کروڑ آبادی پر تباہی اور بربادی کے بادل منڈلا رہے ہیں تو اپنے فضل سے ان حالات کو بدل دے۔چالیس کروڑ انسانوں کی تباہی کوئی معمولی چیز نہیں۔لوگوں کے دل بہار اور کوئٹہ کے زلزلہ کو یاد کر کے کانپ جاتے ہیں حالانکہ بہار اور کوئٹہ کے زلزلہ میں ایک دولا کھ انسان تباہ ہوئے تھے لیکن اب تو چالیس کروڑ انسان کی موت اور حیات کا سوال در پیش ہے۔اگر اب کوئی فساد پیدا ہوا تو اس میں اتنی تباہی ہو گی کہ دنیا کے پردے پر اس کی مثال نہیں ملے گی۔مسلمان جوش میں آکر کہہ دیتے ہیں کہ ہم لڑنے والی قوم ہیں۔اگر ہمارا تیس کروڑ ہندوؤں سے مقابلہ ہوا تو ہم ان میں سے کسی ایک کو زندہ نہیں چھوڑیں گے۔فرض کرو اگر دس کروڑ مسلمان تیس کروڑ ہندوؤں کو مار بھی لیں تو کیا تیس کروڑ کا مارنا ان کے دلوں میں سکون اور اطمینان باقی رہنے دے گا۔اگر ہند و خدا کے سوا کسی بُت کے بندے ہیں اور ان کا پیدا کرنے والا کوئی اور ہے پھر تو یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ مسلمان ان کو مارنے کے بعد آرام اور چین کا سانس لے لیں گے۔لیکن اگر وہ اسی خدا کے بندے ہیں جس نے مسلمانوں کو پیدا کیا تو مسلمان ان کو مار کر کس طرح آرام سے دن بسر کر سکتے ہیں۔یا اگر ہندو یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم منظم قوم ہیں اور ہم تیس کروڑ ہیں اس لئے ہم دس کروڑ کو آسانی سے مار لیں گے تو انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ اگر وہ انسان ہیں اور وہ یقیناً انسان ہیں تو آج وہ بے شک دس کروڑ کو مار لیں لیکن اس گناہ اور اس مجرم کو یاد کر کے آئندہ ان کی نسلوں کے دلوں سے خون کے آنسو ٹپکیں گے اور وہ اس جرم اور گناہ کو یاد کر کے ان پر لعنتیں بھیجیں گے۔بظاہر جوش میں انسان کو ایک دوسرے کا مارنا معمولی نظر آتا ہے لیکن جب وہ ٹھنڈے دل سے سوچتا ہے تو اس کا یہ فعل اس کی زندگی کو ہمیشہ کے لئے تلخ بنا دیتا ہے۔انسان انسانیت سے خواہ کتنا دور چلا جائے لیکن انسانیت سے آزاد نہیں ہو سکتا۔یزید بن معاویہ کتنابد نام ہے کہ اس نے ظلم و تعدی کر کے بادشاہت حاصل کی۔لیکن اس کے بعد جب اس کے بیٹے کو بادشاہ بننے کے لئے کہا گیا تو اس نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ میں بادشاہت کا مستحق نہیں۔میرے باپ نے ظالم بن کر دوسروں کا حق چھینا تھا۔ماں نے بہت