خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 477 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 477

*1946 477 خطبات محمود رہنے والے، بمبئی اور پنجاب کے رہنے والے اور دوسرے صوبوں کے رہنے والے آتے ہیں اور یہاں سے کچھ تاثرات لے کر جاتے ہیں۔اگر ہماری جماعت کا اثر اور نفوذ مضبوط ہو تو یہ یقینی بات ہے کہ ضرور وہ احمدیت کا اثر بھی لے کر جائیں گے۔لیکن اگر انہیں صدر مقام میں احمدیت کا اعلیٰ نمونہ نظر نہ آئے اور ان کے کانوں تک احمدیت کی آواز نہ پہنچے تو وہ یہ سمجھیں گے کہ مرکزی طور پر اس جماعت کو کوئی طاقت حاصل نہیں۔اتفاقی طور پر چند افراد ہمارے علاقوں میں احمدی ہو گئے ہیں۔اگر ان حالات میں دہلی کی جماعت اپنی تبلیغ کو مضبوط نہ کرے تو احمدیت کا رُعب قائم نہیں ہو سکتا۔پس ضرورت ہے اس بات کی کہ دہلی کی جماعت دیوانہ وار تبلیغ میں لگ جائے اور اپنے نفسوں میں ایک عظیم الشان تغیر پیدا کرے تاکہ باہر سے آنے والے لوگ جب دہلی آئیں تو وہ یہ محسوس کریں کہ دہلی میں چاروں طرف احمدیت کا چرچاہے۔اگر دہلی میں ہماری جماعت کی تبلیغ مضبوط ہو جاوے تو خواہ ہمارا مبلغ مدراس، بمبئی، مالا بار و غیره میں نہ پہنچ سکے تو بھی احمدیت کی آواز ان لوگوں کے کانوں تک پہنچتی رہے گی کیونکہ جو لوگ دہلی آئیں گے وہ یہاں سے گہرے طور پر احمدیت کا اثر لے کر جائیں گے۔پس جو کام مالا بار کے لوگ نہیں کر سکتے تھے وہ دہلی کے لوگ کر سکتے ہیں اور جو کام مدراس کے لوگ نہیں کر سکتے تھے وہ دہلی کے لوگ کر سکتے ہیں۔دہلی میں ہندوستان کے چاروں کونوں سے لوگ جمع ہوتے ہیں۔پس ان علاقوں تک تبلیغ پہنچانے کا ایک ذریعہ یہ بھی ہے کہ دہلی کی جماعت کو مضبوط کیا جائے اور اس کی تبلیغی کوششوں کو فروغ دیا جائے۔اور یہ کام تبھی ہو سکتا ہے جبکہ جماعت دہلی جانی قربانی اور مالی قربانی کے لئے ہر طرح تیار ہو۔میں دیکھتا ہوں کہ لوگ جانی قربانیوں کا نام سن کر گھبراتے ہیں حالانکہ موت قبول کئے بغیر کوئی قوم کامیاب نہیں ہو سکتی۔اور مجھے یہ تو بتاؤ کہ کون ہے جو موت سے بچ سکتا ہے؟ اگر موت کا وقت مقرر ہوتا تو بھی ہم کہہ سکتے تھے کہ فلاں شخص ابھی اتنے سال اور زندہ رہ سکتا ہے۔فرض کرو اگر ہر ایک آدمی کے لئے سو سال کی عمر مقرر ہوتی تو ایک ساٹھ سال کی عمر میں جانی قربانی کرنے والے کے لئے ہم کہہ سکتے تھے کہ وہ شخص چالیس سال پہلے اس جہان سے چلا گیا۔لیکن حالت تو یہ ہے کہ انسان ایک پل کے لئے بھی اپنی زندگی پر بھروسہ نہیں کر سکتا۔