خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 470

*1946 470 خطبات محمود وہ ہمیشہ ہوشیار رہے اور اپنے ہر کام کو بغور دیکھے کہ آیا وہ ضرورتِ وقت کے مطابق ہے یا نہیں۔خواہ وہ ذاتی کام ہوں یا وہ قومی کام ہوں۔قومی کاموں کا پورا کرنا ذاتی کاموں سے زیادہ مقدم ہوتا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ بہت سے لوگ اس خیال میں مبتلا ہیں کہ ہم غیر احمدیوں سے بہت زیادہ قربانی کرتے ہیں۔غیر احمدی آزاد ہیں۔وہ کسی حکم کے پابند نہیں۔مالی اور جانی قربانیوں کا ان سے مطالبہ نہیں کیا جاتا۔لیکن ایسے لوگوں کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارا مقابلہ یا ہماری مشابہت ان لوگوں سے نہیں اور ہمیں ان سے کوئی نسبت نہیں۔یہ لوگ منبع سے بہت دور ہیں اور ہم لوگ منبع کے بہت قریب ہیں۔ہمارا دعویٰ ہے کہ ہمارے زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مامور آیا اور ہم نے اُس کو مانا۔اور ہم وہی قربانیاں کریں گے جو حضرت ابراہیم کے ماننے والوں، حضرت موسی کے ماننے والوں، حضرت عیسی کے ماننے والوں اور حضرت زکریا کے ماننے والوں، حضرت یحی، داؤڈ اور سلیمان کے ماننے والوں، رام چندر اور کرشن، زرتشت اور بدھ کے ماننے والوں نے کیں۔ویسی ہی قربانیاں ہم بھی کریں گے۔اِس دعویٰ کے بعد ہماری موجودہ زمانہ کے لوگوں سے کوئی نسبت قائم نہیں ہو سکتی۔ان دونوں گروہوں میں ایک بہت بڑا فرق ہے۔اس کی مثال تم یوں سمجھو کہ کوئی شخص یہ دیکھ کر کہ چونکہ مرغی پندرہ ہیں دانے کھا کر سیر ہو جاتی ہے وہ ایک گائے کے سامنے پچاس یا ساٹھ دانے ڈال کر یہ سمجھ لے کہ اب وہ سیر ہو جائے گی۔یا ایک ہاتھی جو کہ منوں غذا کھاتا ہے اُس کے سامنے ساٹھ ستر یا سو دانے ڈال کر یہ سمجھ لے کہ اب ہاتھی سیر ہو جائے گا۔یا وہ یہ سمجھتا ہے کہ چونکہ ایک مرغی ایک چھٹانک بوجھ اٹھا سکتی ہے اس لئے ایک ہاتھی پر بھی ایک چھٹانک ہی بوجھ لاد نا چاہئے۔ایسے شخص کو تمام دنیا پاگل کہے گی۔پس یادر کھو کہ ہمارا مقابلہ تورسول کریم صلی نیلم کے صحابہ سے ہے۔ہمارا مقابلہ تو حضرت موسیٰ کے ساتھیوں سے ہے۔ہمارا مقابلہ تو حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھیوں سے ہے۔ہمارا مقابلہ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھیوں سے ہے۔جب تک تم اس قسم کی قربانیاں نہیں کرتے جس قسم کی قربانیاں انہوں نے کیں اور جب تک تم اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے رستے میں فنا نہیں کرتے اور بڑی سے بڑی قربانیوں کے لئے تیار نہیں ہو جاتے اُس وقت تک