خطبات محمود (جلد 27) — Page 469
*1946 469 خطبات محمود لوگوں نے ہماری دکان چھوڑ کر اُس کی دکان سے سودا خرید ناشروع کر دیا۔میرے باپ نے محسوس کیا کہ اگر ہماری تجارت کی یہی حالت رہی تو ہماری تجارت بہت جلد گر جائے گی اس لئے برے باپ نے مجھے کہا کہ جاؤ تم بھی حج کر آؤ تا کہ ہم بھی بورڈ پر حاجی لکھ سکیں۔اس کے کہنے میں حج کے لئے آیا تو دیکھو اُس کی یہ عبادت اس کے لئے گناہ بن گئی اور اسے بہت سی نیکیوں سے محروم کرنے والی بن گئی۔یہی حال زکوۃ کا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو لوگ اِس لئے صدقات دیتے ہیں کہ دنیا کے لوگ ان کی تعریف کریں اور کہیں کہ یہ بہت سخی آدمی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اُس کی مثال اُس شخص کی ہے جس نے پتھر پر بیج ڈال دیا۔جب بارش کے چھینٹے پڑیں گے تو وہ بیج کو اپنے ساتھ بہالے جائیں گے۔جو لوگ نام و نمود کے لئے خرچ کرتے ہیں اسی طرح بجائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے ان کے لئے رحمت کا پیغام لائیں اُن کے لئے لعنت اور خدا سے دوری کا پیغام لاتے ہیں۔پس حالات کی تبدیلی سے اچھے سے اچھا کام بُرا ہو جاتا ہے اور بُرے سے بُرا کام اچھا ہو جاتا ہے۔لڑائی کتنی بری چیز ہے، کسی کو قتل کرنا کتنا بڑا گناہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے قتل کو ان خاص جرائم میں رکھا ہے جن کے متعلق فرماتا ہے کہ ایسے لوگوں کے لئے ہمارا خاص عذاب اور سخت ناراضگی ہے مگر وہی قتل جہاد کی صورت میں کتنا ضروری ہو جاتا ہے۔اگر کوئی مومن لڑائی کے میدان سے بھاگتا ہے تو بجائے اس کے کہ اُس کی تعریف کی جائے کہ اُس نے قتل و خون نہیں کیا اور وہ بہت امن پسند ہے اُس کو بزدل اور غدار کہا جاتا ہے۔اس نے اپنی قوم سے دھوکا کیا اور اس کے لئے کمزوری کا باعث بنا۔اور جو شخص ڈٹ کر دشمن کا مقابلہ کرتا ہے اور جان کی پروا نہیں کرتا اور پیٹھ نہیں دکھاتا اُسے حقیقی مومن سمجھا جاتا ہے۔اب دیکھو ایک وقت میں قتل کرنا کتنا بڑا گناہ ہے مگر دوسرے وقت میں وہی قتل ایک اعلیٰ نیکی بن جاتا ہے۔مگر شرط یہ ہے کہ وہ قتل دفاع اور خود حفاظتی کے طور پر ہو اور ظلم کارنگ اُس میں نہ پایا جا تا ہو۔بہر حال ایک چیز ایک وقت میں گناہ ہوتی ہے تو دوسرے وقت میں ثواب بن جاتی ہے۔جیسا کہ میں نے مختلف مثالوں سے آپ دوستوں کے سامنے اس کو واضح کر دیا ہے۔پس مومن کو چاہئے کہ