خطبات محمود (جلد 27) — Page 441
*1946 441 خطبات محمود گرا دینے کے مترادف ہے۔اسی طرح عیسائی مرتے ہیں ان کے مرنے سے یا ان کو مارنے سے عیسائیت کو کیا نقصان پہنچ سکتا ہے۔لیکن اگر یہ کہا جائے کہ عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں تو اس سے عیسائی دنیا کی ساری عمارت جو الوہیت مسیح کے سہارا پر کھڑی ہے دھڑام سے زمین پر آپڑتی ہے۔مسلمان مرتے ہیں ان کے مرنے یا مارنے سے مسلمانوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا لیکن اگر یہ کہا جائے کہ وہ مسیح جس کے متعلق آپ لوگ امیدیں لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ آکر کافروں کو قتل کرے گا اور ان کی تمام دولت تمہارے حوالہ کر دے گا۔تمہارا وہ مسیح نہیں آئے گا، وہ مر چکا ہے اور جس نے آنا تھا وہ آچکا ہے ایسا کہنے سے مسلمانوں کی امیدوں کے تمام قلعے مسمار ہو جاتے ہیں۔ہندو ہر روز مرتے ہیں ان کے مرنے یا مارنے سے ہندو مذہب کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔لیکن اگر انہیں یہ کہا جائے کہ نہ کلنک او تار جس کے تم منتظر ہو وہ آگیا ہے مگر وہ ہندوؤں میں سے نہیں بلکہ وہ مسلمانوں میں سے آیا ہے اور اب جو اسے ماننا چاہے اس کے لئے رسول کریم صلی اللی علم کی غلامی ضروری ہے۔ایسا کہنے سے ان کے تمام خیالی محلات گر جاتے ہیں اور ان کی بادشاہت کی امیدوں پر پانی پھر جاتا ہے۔پس کوئی قوم ایسی نہیں جس کی قومی عمارت پر ہم نے حملہ نہ کیا ہو اور کوئی قوم ایسی نہیں جس سے ہم نے ٹکر نہ لی ہو۔اس کے باوجود کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ غلبہ حاصل ہونے کی حالت میں یہ قو میں تم سے بدلہ لئے بغیر تمہیں چھوڑ دیں گی؟ وہ تو تمہارا قیمہ کر کے بھی خوش نہیں ہوں گی۔بلکہ اگر اس سے بھی کوئی بار یک چیز بن سکتی ہے تو وہ بنا کر خوش ہوں گی۔پس ہوشیار ہو جاؤ اور بیدار ہو جاؤ کہ آنے والا زمانہ بہت سی بھیانک اور مہیب تکلیفیں اپنے ساتھ لا رہا ہے۔تم میں سے جو ابھی تیاری نہیں کرے گاوہ حملہ کے وقت گر جائے گا۔وہ پانچ سال جن میں جماعت کے لئے تغیرات کی توقع ہے وہ یہی پانچ سال معلوم ہوتے ہیں۔وہ پانچ سال 1949ء میں جا کر ختم ہوتے ہیں۔بہر حال جتنے دن یا جتنے مہینے یا جتنے سال باقی ہیں اُن میں اپنی پوری تیاری کرو اور اپنے اندر عظیم الشان تغیر پیدا کرو اور دیوانہ وار تبلیغ میں لگ جاؤ۔اگر ہماری تبلیغ کامیاب ہو گی تو ہماری زندگی بھی کامیاب ہو گی۔ورنہ ہماری ذراسی پہلے ایک خطبہ میں 1948 ء غلط چھپا ہے کیونکہ 1944ء میں میں نے وہ خواب دیکھا تھا۔