خطبات محمود (جلد 27) — Page 415
*1946 415 خطبات محمود پھیر دو اور اس کے سپر د خواہ کوئی کام کرو وہ اپنے ارد گرد کے حالات کا خوب مطالعہ کرے گا اور ان کے متعلق چوکس اور چوکنا ر ہے گا۔اور اس کی باتوں میں معقولیت کا رنگ ہو گا۔لیکن غیر ذہین اور غافل آدمی بعض دفعہ ایسی بات کرتا ہے جو اس کی ذلت اور رسوائی کا موجب ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام ایک بزرگ کا قصہ سنایا کرتے تھے۔دراصل بزرگ تو نہیں لیکن بزرگ بن بیٹھا تھا۔اُس علاقہ کے بادشاہ کو اس کے وزراء نے مشورہ دیا کہ اس کے پاس دعا کرانے کے لئے چلنا چاہئے۔چنانچہ بادشاہ ان کے مشورہ کے مطابق اس بزرگ کو ملنے کے لئے گیا۔جب اس بزرگ سے باتیں شروع ہوئیں تو اس بزرگ نے اپنے دل میں خیال کیا کہ بادشاہ سے اس قسم کی باتیں کروں جن سے بادشاہ پر رعب پڑے۔چنانچہ اس نے کہنا شرع کیا۔اے بادشاہ! اپنی رعایا سے انصاف کرنا چاہئے اور تمہیں دوسرے مسلمان بادشاہوں پر سبقت لے جانی چاہئے۔تم سے پہلے ایک مسلمان بادشاہ سکندر ذوالقر نین گزرا ہے وہ بہت انصاف کرنے والا تھا۔مسلمان بادشاہوں کو دوسرے علموں کے متعلق بے شک ناواقفیت ہو گی لیکن وہ تاریخ کا علم ضرور رکھتے تھے کیونکہ انہیں پہلی حکومتوں کے حالات سے کسی حد تک سبق لینا ہو تا تھا۔اور ان کے نظام کے حسن و قبح پر نظر رکھنی ہوتی تھی۔جب اس نے یہ کہا کہ سکندر ذوالقرنین ایک مسلمان بادشاہ تھا تو بادشاہ کو اس کی بزرگی کا اندازہ ہو گیا۔بادشاہ وہاں سے اُٹھ کھڑا ہوا اور اپنے وزراء سے کہنے لگا کہ یہ تو نہایت جاہل شخص ہے۔اگر یہ تاریخ کے متعلق نہیں جانتا تھا تو اسے میرے سامنے تاریخ بھگارنے کی ضرورت کیا تھی۔اب یہ اُس (بزرگ) کی بیوقوفی تھی کہ اس نے ایک ایسا رستہ اختیار کیا جس کے متعلق اُسے علم نہ تھا۔اگر وہ ذہین ہو تا تو بجائے ایسی باتوں کے کوئی اور نصیحت کرتا۔پس ذہن کی تیزی ایک ایسی چیز ہے جو انسان کے لئے ہر عمر میں مشعل راہ ہوتی ہے۔ذہین آدمی دینی معاملات کو بھی بہت جلد سمجھ لیتا ہے اور دنیوی معاملات کو بھی بہت جلد سمجھ لیتا ہے۔مثلاً ایک ذہین آدمی آجکل اخباروں کو ضرور پڑھے گا تا کہ اُسے یہ معلوم ہو تا رہے کہ اُس کی قوم کو کس کس قسم کی مشکلات پیش آرہی ہیں اور اسے کس قسم کی تیاری کرنی چاہئے۔لیکن باوجود اس نازک زمانہ کے تمہیں ہزاروں ہزار نوجوان ایسے ملیں گے جو گپیں ہانکتے رہیں گے