خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 414

*1946 414 خطبات محمود موجب بنے۔نہ یہ کہ اور مال اس کو حاصل ہو۔جو کمرہ سامان سے بھرا ہوا ہو اُس کی درستی یہ ہے کہ اس میں سے کچھ سامان نکال لیا جائے ، نہ یہ کہ اس میں کچھ اور سامان ڈال دیا جائے۔یہ دعا ایک عادت کے ماتحت کی جاتی ہے۔کسی غریب آدمی کو دعا کرتے سنا کہ اے خدا! تو میری دنیا کی درستی کر دے اور مجھے مال میں فراخی بخش۔بس اُس سے سن کر بغیر غور کئے دعا کرنی شروع کر دی۔دعا کا یہ طریق نہیں ہے۔بلکہ دعا کا طریق یہ ہے کہ انسان دعا کرنے سے پہلے سوچے اور غور کرے کہ میری کیا کیا ضرورتیں ہیں۔اس کے بعد وہ خدا تعالیٰ کے سامنے اپنی ضرورتوں کو رکھے۔یہ دعا اصل دعا ہو گی کیونکہ جب اسے اپنی کمزوریوں اور اپنی ضرورتوں کا احساس ہو جائے گا تو وہ ضرور ان کی اصلاح کی طرف متوجہ ہو گا اور ہو سکتا ہے کہ سجدہ کرنے سے پہلے ہی اس کی اصلاح ہو جائے۔کیونکہ حقیقی احساس بھی کمزوریوں کے دور کرنے کا ایک بہت بڑا علاج ہے۔پھر ہر زمانہ کے کچھ عیب ہوتے ہیں۔ہمیں اپنے زمانہ کے عیبوں کے متعلق سوچ بچار کر کے دعا کرنی چاہئے۔صرف اتنا کہنے سے کہ اے خدا! رحم کر۔اے خدا! رحم کر۔رحم نہیں ہوتا جب تک وہ ضرورت مد نظر نہ ہو جس کے لئے رحم طلب کیا گیا ہے۔اس زمانہ میں ہندوستان کے لوگوں میں ایک کمزوری یہ بھی ہے کہ ان کے نزدیک ذہن کی کوئی قیمت نہیں جو چیز زیادہ سے زیادہ اُن کے سامنے آتی ہے وہ اسی کے عادی ہوتے ہیں۔یہ نہیں کہ وہ کسی بات کے متعلق سوچ بچار کر کے اس کے غلط یا صحیح ہونے کا اندازہ لگا سکیں اور ذہن کو بالکل عضو معطل کی طرح چھوڑا ہوا ہے حالانکہ ذہن ایسی چیز ہے کہ اگر اسکے بڑھانے کی کوشش کی جائے تو وہ بڑھ سکتا ہے۔لیکن ہمارے لوگوں کی نظر روزہ مرہ کے کاموں سے آگے تجاوز ہی نہیں کرتی۔داناؤں کا قول ہے کہ ایک ضرورت پیش آئے تو دس اور متعلقہ ضرورتوں کو بھی مد نظر رکھنا چاہئے۔لیکن آجکل حالت یہ ہے کہ بالکل بے سوچے سمجھے سیدھا چلتے چلے جاتے اور اپنے دائیں بائیں ماحول کی طرف توجہ نہیں کرتے۔اللہ تعالیٰ قرآن میں منافقوں کے متعلق فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نشان پر نشان اسلام کی صداقت کے لئے ظاہر ہو رہے ہیں لیکن یہ لوگ سوروں کی طرح سیدھے ایک سمت میں چلتے چلے جاتے ہیں اور اپنے ارد گرد کے حالات کو نہیں دیکھتے۔ذہین آدمی کا کام ہے کہ اس کا منہ خواہ کسی طرف